آگ جنگل میں لگی ہے دور دریاؤں کے پار اور کوئی شہر میں پھرتا ہے گھبرایا ہوا
Related Sher
ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا
Bashir Badr
373 likes
بنسری سب سر تیاغے ہے ایک ہی سر ہے وہ ہے وہ باجے ہے حال لگ پوچھو موہن کا سب کچھ رادھے رادھے ہے
Zubair Ali Tabish
325 likes
تمہیں ہم بھی ستانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا تمہارا دل دکھانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدنام کرتے پھروں رہے ہوں اپنی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر ہم سچ بتانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا
Santosh S Singh
339 likes
ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
333 likes
ہوا ہی کیا جو حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ملا نہیں بدن ہی صرف ایک راستہ نہیں یہ پہلا عشق ہے تمہارا سوچ لو مری لیے یہ راستہ نیا نہیں
Azhar Iqbal
298 likes
More from Zafar Iqbal
ख़ुद को तरतीब दिया आख़िर-ए-कार अज़-सर-ए-नौ ज़िंदगी में तेरा इन्कार बहुत काम आया
Zafar Iqbal
0 likes
وہ صورت دیکھ لی ہم نے تو پھروں کچھ بھی نہ دیکھا ابھی ورنہ پڑی تھی ایک دنیا دیکھنے کو
Zafar Iqbal
0 likes
رات خالی ہی رہےگی مری چاروں جانب اور یہ کمرہ تیری یادوں سے بھر جائےگا
Zafar Iqbal
7 likes
جاناں ہی بتلاؤ کہ ا سے کی دودمان کیا ہوں گی تمہیں جو محبت مفت ہے وہ ہے وہ مل جائے آسانی کے ساتھ
Zafar Iqbal
0 likes
بدن کا سارا لہو کھنچ کے آ گیا تو رکھ پر حقیقت ایک بوسہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دے کے سرخ رو ہے بے حد
Zafar Iqbal
23 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Zafar Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Zafar Iqbal's sher.







