آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
Related Sher
کون تمہارے پا سے سے اٹھ کر گھر جاتا ہے جاناں ج سے کو چھو لیتی ہوں حقیقت مر جاتا ہے
Tehzeeb Hafi
207 likes
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ ج سے دیے ہے وہ ہے وہ جان ہوں گی حقیقت دیا رہ جائےگا
Mahshar Badayuni
78 likes
دبی کچلی ہوئی سب خواہشوں کے سر نکل آئی ذرا بڑھانے ہوا تو چیونٹیوں کے پر نکل آئی ابھی اڑتے نہیں تو نقش قدم کے ساتھ ہیں بچے اکیلا چھوڑ دیں گے ماں کو ج سے دن پر نکل آئی
Mehshar Afridi
63 likes
ا سے کی زلفیں ادا سے ہوں جائے ا سے دودمان روشنی بھی ٹھیک نہیں جاناں نے ناراض ہونا چھوڑ دیا اتنی ناراضگی بھی ٹھیک نہیں
Fahmi Badayuni
128 likes
مانگ سندور بھری ہاتھ حنائی کر کے روپ جوبن کا ذرا اور نکھر آئےگا ج سے کے ہونے سے مری رات ہے روشن روشن چاند ہے وہ ہے وہ آج وہی عک سے نظر آئےگا
Azhar Iqbal
67 likes
More from Mirza Ghalib
سب ک ہاں کچھ لالا و گل ہے وہ ہے وہ نمائیں ہوں گئیں خاک ہے وہ ہے وہ کیا صورتیں ہوںگی کہ پن ہاں ہوں گئیں
Mirza Ghalib
0 likes
کی مری قتل کے بعد ا سے نے کہوں سے توبہ ہاں یہ ا سے زود پشیمان کا پشیمان ہونا
Mirza Ghalib
8 likes
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
Mirza Ghalib
0 likes
دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو لگ دے جو بوسہ تو منا سے کہی جواب تو دے
Mirza Ghalib
22 likes
غم اگرچہ پ ہے بچیں ک ہاں غم عشق کہ دل ہے غم عشق گر لگ ہوتا غرق دریا ہوتا
Mirza Ghalib
14 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's sher.







