آئینے کی آنکھ ہی کچھ کم لگ تھی مری لیے جانے اب کیا کیا دکھائےگا تمہارا دیکھنا
Related Sher
مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی
Ismail Raaz
140 likes
مدتیں گزر گئی حساب نہیں کیا لگ جانے اب ک سے کے کتنے رہ گئے ہم
Kumar Vishwas
271 likes
طوفانوں سے آنکھ ملاؤ بٹھاتا پہ وار کروں ملاحوں کا چکر چھوڑو تیر کے دریا پار کروں
Rahat Indori
144 likes
تمہیں حسن پر دسترسی ہے محبت وہبت بڑا جانتے ہوں تو پھروں یہ بتاؤ کہ جاناں ا سے کی آنکھوں کے بارے ہے وہ ہے وہ کیا جانتے ہوں یہ جغرافیہ فلسفہ سائیکالوجی سائن سے ریاضی وغیرہ یہ سب جاننا بھی اہم ہے م گر ا سے کے گھر کا پتا جانتے ہوں
Tehzeeb Hafi
1279 likes
ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو اتنا دیکھا جتنا دیکھا جا سکتا تھا لیکن پھروں بھی دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا تھا
Farrukh Yar
979 likes
More from Parveen Shakir
لڑ کیوں کے دکھ غضب ہوتے ہیں سکھ ا سے سے عجیب ہن سے رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
Parveen Shakir
25 likes
یہ کیا کہ حقیقت جب چاہے مجھے چھین لے مجھ سے اپنے لیے حقیقت بے وجہ تڑپتا بھی تو دیکھوں
Parveen Shakir
16 likes
ابھی سے مری رفو گر کے ہاتھ تھکنے لگے ابھی تو چاک مری زخم کے صلے بھی نہیں خفا اگرچہ ہمیشہ ہوئے م گر اب کے حقیقت برہمی ہے کہ ہم سے ا نہیں گلے بھی نہیں
Parveen Shakir
29 likes
مر بھی جاؤں تو ک ہاں لوگ بھلا ہی دیں گے لفظ مری مری ہونے کی گواہی دیں گے
Parveen Shakir
15 likes
ا سے نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
Parveen Shakir
31 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Parveen Shakir.
Similar Moods
More moods that pair well with Parveen Shakir's sher.







