تاب غم سے گریہ و زاری کو کرنے والی سن باندھ لیںگے پلے سے تجھ کو غریبی کی طرح
Related Sher
ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
136 likes
غم فرقت کا شکوہ کرنے والی مری موجودگی ہے وہ ہے وہ سو رہی ہے
Jaun Elia
130 likes
جو دنیا کو سنائی دے اسے کہتے ہیں خموشی جو آنکھوں ہے وہ ہے وہ دکھائی دے اسے طوفان کہتے ہیں
Rahat Indori
132 likes
اب مزید ا سے سے یہ رشتہ نہیں رکھا جاتا ج سے سے اک بے وجہ کا پردہ نہیں رکھا جاتا پڑھنے جاتا ہوں تو تسمے نہیں باندھے جاتے گھر پلٹتا ہوں تو بستہ نہیں رکھا جاتا
Tehzeeb Hafi
129 likes
ایک ہی حادثہ تو ہے اور حقیقت یہ کہ آج تک بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی
Jaun Elia
94 likes
More from Sohaib Alvi
پرمیسن چاہتا ہوں دیکھ یہ شیشے سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ باندھنے لگ گیا تو ہوں رسی کو پنکھے سے ہے وہ ہے وہ
Sohaib Alvi
2 likes
ریشمی زلفوں کے جاناں اپنی اشارے سمجھو آج رنگین کریں رات قریب آ جاؤ
Sohaib Alvi
2 likes
تیرا لینا نا اک نا دینا دو بھائی تو کیوں اکڑ کے بیٹھ گیا تو
Sohaib Alvi
3 likes
بات یہ دل کی بتانی بھی نہیں آتی ہے ہم سے تو بنسری بجانی بھی نہیں آتی ہے
Sohaib Alvi
3 likes
تیری پھینکی پہنچاتا مجھ کو ہزاروں کی پڑتی تھی کلا سے کے بچے مجھے تیری چیزیں بیچا کرتے تھے
Sohaib Alvi
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Sohaib Alvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Sohaib Alvi's sher.







