اب ان جلے ہوئے جسموں پہ خود ہی سایہ کروں تمہیں کہا تھا بتا کر قریب آیا کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد مہینوں ادا سے رہتا ہوں مزاق ہے وہ ہے وہ بھی مجھے ہاتھ مت لگایا کروں
Related Sher
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں ہے وہ ہے وہ ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ہے وہ ہے وہ ملیں
Ahmad Faraz
95 likes
طوفانوں سے آنکھ ملاؤ بٹھاتا پہ وار کروں ملاحوں کا چکر چھوڑو تیر کے دریا پار کروں
Rahat Indori
144 likes
بات کروں روٹھے یاروں سے سناٹوں سے ڈر جاتے ہیں پیار اکیلا جی لیتا ہے دوست اکیلے مر جاتے ہیں
Kumar Vishwas
141 likes
تیری نگاہ ناز سے چھوٹے ہوئے درخت مر جائیں کیا کریں بتا سوکھے ہوئے درخت حیرت ہے پیڑ نیم کے دینے لگے ہیں آم پگلا گئے ہیں آپ کے چو گرد امیر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوئے درخت
Varun Anand
96 likes
دل سے ثابت کروں کہ زندہ ہوں سان سے لینا کوئی ثبوت نہیں
Fahmi Badayuni
139 likes
More from Tehzeeb Hafi
صحرا سے ہوں کے باغ ہے وہ ہے وہ آیا ہوں سیر کو ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پھول ہیں مری پاؤں ہے وہ ہے وہ ریت ہے
Tehzeeb Hafi
41 likes
ا سے لیے روشنی ہے وہ ہے وہ ٹھنڈک ہے کچھ چراغوں کو نمہ کیا گیا تو ہے
Tehzeeb Hafi
42 likes
پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنگل ہے وہ ہے وہ پانی لایا کرتا تھا
Tehzeeb Hafi
56 likes
پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھیگ جاؤں گا چھتری نہیں بناؤں گا
Tehzeeb Hafi
64 likes
پہلے ا سے کی خوشبو ہے وہ ہے وہ نے خود پر تاری کی پھروں ہے وہ ہے وہ نے ا سے پھول سے ملنے کی تیاری کی اتنا دکھ تھا مجھ کو تری لوٹ کے جانے کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے گھر کے دروازوں سے بھی منا ماری کی
Tehzeeb Hafi
114 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.
Similar Moods
More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's sher.







