اب جو پتھر ہے آدمی تھا کبھی ا سے کو کہتے ہیں انتظار میاں
Related Sher
ہم حقیقت ہیں جو خدا کو بھول گئے جاناں مری جان ک سے گمان ہے وہ ہے وہ ہوں
Jaun Elia
563 likes
ا گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے ذرا سی بوندابان گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے یہ راہ عشق ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں محبت اڑانی والوں کے ب سے کی بات تھوڑی ہے
Abrar Kashif
221 likes
پوچھتے ہیں حقیقت کہ تاکتے کون ہے کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
Mirza Ghalib
208 likes
ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں محبت کی اسی مٹی کو ہندوستان کہتے ہیں
Rahat Indori
212 likes
تری لگائے ہوئے زخم کیوں نہیں بھرتے مری لگائے ہوئے پیڑ سوکھ جاتے ہیں
Tehzeeb Hafi
200 likes
More from Afzal Khan
بنا رکھی ہیں دیواروں پہ تصویریں پرندوں کی وگر لگ ہم تو اپنے گھر کی ویرانی سے مر جائیں
Afzal Khan
20 likes
یہ کہ دیا ہے مری آنسوؤں نے تنگ آ کر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سمے ضرورت نکا لیے صاحب
Afzal Khan
22 likes
جانے کیا کیا ظلم پرندے دیکھ کے آتے ہیں شام ڈھلے پیڑوں پر مرثیہ خوانی ہوتی ہے
Afzal Khan
22 likes
دانستہ مجھ آوارہ سے ٹکرا کے یہ دنیا کہتی ہے کہ اندھے ہوں دکھائی نہیں دیتا
Afzal Khan
0 likes
اسی لیے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ احسا سے جرم ہے شاید ابھی ہماری محبت نئی نئی ہے نا
Afzal Khan
14 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Afzal Khan.
Similar Moods
More moods that pair well with Afzal Khan's sher.







