اب میں سمجھا ترے رخسار پہ تل کا مطلب دولت حسن پہ دربان بٹھا رکھا ہے رخسار یعنی گال، دولتِ حسن یعنی حسن کی دولت، دربان یعنی رکھوالا۔ یہ شعر اپنے مضمون کی ندرت کی وجہ سے زبان زدِ عام ہے۔ شعر میں مرکزی حیثیت ’’رخسار پر تل‘‘ کو حاصل ہے کیونکہ اسی کی مناسبت سے شاعر نے مضمون پیدا کیا ہے۔ محبوب کے رخسار کو دربان(رکھوالا) سے مشابہ کرنا شاعر کا کمال ہے۔ اور جب دولتِ حسن کہا تو گویا محبوب کے سراپا کو آنکھوں کے سامنے لایا۔ رخسار پر تل ہونا حسن کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے۔ مگر چونکہ محبوب پیکرِ جمال ہے اس خوبی کی مناسبت سے شاعر نے یہ خیال باندھا ہے کہ جس طرح بری نظر سے محفوظ رکھنے کے لئے خوبصورت بچوں کے گال پر کالا ٹیکہ لگایا جاتا ہے اسی طرح میرے محبوب کو لوگوں کی بری نظر سے بچانے کے لئے خدا نے اس کے گال پر تل رکھا ہے۔ اور جس طرح مال و دولت کو لٹیروں سے محفوظ رکھنے کے لئے اس پر دربان (رکھوالے)بٹھائے جاتے ہیں بالکل اسی طرح خدا نے میرے محبوب کے حسن کو بری نظر سے محفوظ رکھنے کے لئے اس کے گال پر تل بنایا ہے۔ شفق سوپوری
Related Sher
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ
Allama Iqbal
296 likes
حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف
Varun Anand
264 likes
گلاب خواب دوا زہر جام کیا کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ گیا تو ہوں بتا انتظام کیا کیا ہے
Rahat Indori
263 likes
اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی
Ali Zaryoun
361 likes
یہ دکھ ا پیش ہے کہ ا سے سے ہے وہ ہے وہ دور ہوں رہا ہوں یہ غم جدا ہے حقیقت خود مجھے دور کر رہا ہے تری چیزیں پر لکھ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ تازہ غزلیں یہ تیرا غم ہے جو مجھ کو مشہور کر رہا ہے
Tehzeeb Hafi
394 likes
More from Unknown
لگتا ہے کئی راتوں کا جاگا تھا مصور تصویر کی آنکھوں سے تھکن جھانک رہی ہے
Unknown
0 likes
ٹکرا گیا تو حقیقت مجھ سے کتابیں لیے ہوئے پھروں میرا دل اور ا سے کی کتابیں بکھر گئیں
Unknown
14 likes
کئی کھوئے سے اچھی ہے خموشی مری لگ جانے کتنے سوالوں کی رکھ رکھے
Unknown
16 likes
عید کے بعد حقیقت ملنے کے لیے آئی ہیں عید کا چاند نظر آنے لگا عید کے بعد
Unknown
21 likes
چل دیے گھر سے تو گھر نہیں دیکھا کرتے جانے والے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا کرتے سیپیاں کون کنارے سے اٹھا کر بھاگا ایسی باتیں سمندر نہیں دیکھا کرتے
Unknown
25 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Unknown.
Similar Moods
More moods that pair well with Unknown's sher.







