اہل بینش کو ہے طوفان حوادث مکتب لطمۂ موج کم از سیلئ استاد نہیں
Related Sher
لہجہ کہ چنو صبح کی خوشبو اذان دے جی چاہتا ہے ہے وہ ہے وہ تری آواز چوم لوں
Bashir Badr
52 likes
دوجوں کا دکھ سمجھنے کو بے حد ضروری ہے تھوڑی صحیح بچیں دل ہے وہ ہے وہ اذیت بنی رہے
Afzal Ali Afzal
38 likes
تمہارے شہر ہے وہ ہے وہ تہمت ہے زندہ رہنا بھی جنہیں عزیز تھیں جانیں حقیقت مرتے جاتے ہیں
Abbas Tabish
42 likes
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب ا سے دودمان بھی لگ چاہو کہ دم نکل جائے
Obaidullah Aleem
44 likes
ازل سے لے کر کے آج تک ہے وہ ہے وہ کبھی بھی تنہا نہیں رہا ہوں کبھی تھے جاناں تو کبھی تھی دنیا کبھی یہ غزلیں کبھی اداسی
Ankit Maurya
42 likes
More from Mirza Ghalib
سب ک ہاں کچھ لالا و گل ہے وہ ہے وہ نمائیں ہوں گئیں خاک ہے وہ ہے وہ کیا صورتیں ہوںگی کہ پن ہاں ہوں گئیں
Mirza Ghalib
0 likes
لگ ستائش کی تمنا لگ صلے کی پروا گر نہیں ہیں مری اشعار ہے وہ ہے وہ معنی لگ صحیح
Mirza Ghalib
11 likes
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
Mirza Ghalib
0 likes
بیداد عشق سے نہیں ڈرتا م گر سرسری ج سے دل پہ ناز تھا مجھے حقیقت دل نہیں رہا
Mirza Ghalib
7 likes
تا قیامت شب فرقت ہے وہ ہے وہ گزر جائے گی عمر سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک
Mirza Ghalib
17 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's sher.







