بات وہ کہئے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لیے شعر میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے اسی نے اسے دل چسپ بنایا ہے۔ اس میں لفظ بات کی اگرچہ تین دفعہ اور پہلو کی دو دفعہ تکرار ہوئی ہے مگر لفظوں کی ترنم ریزی اور بیان کی روانی کے وصف نے شعر میں لطف پیدا کیا ہے۔ پہلو کی مناسبت سے لفظ بدلنے نے شعر کی کیفیت کو تاثر بخشا ہے۔ دراصل شعر میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے، وہ اگرچہ کسی تخصیص کا حامل نہیں بلکہ عام فہم ہے مگر جس انداز سے شاعر نے اس نکتے کوبیان کیا ہے وہ اس نکتے کو عام فہم ہونے کے باوجود نادر بنادیتا ہے۔ ٍشعر کا مفہوم یہ ہے کہ بات کو کچھ ایسے رمزیہ انداز میں کہنا چاہیے کہ اس سے سو طرح کے مفہوم بر آمد ہوں۔کیونکہ معنی کے اعتبار سے اکہری بات کہنا دانا لوگوں کا شیوہ نہیں بلکہ وہ سو نکتوں کا نچوڑ ایک بات میں بیان کرتے ہیں۔ اس طرح سے سننے والوں کو بحث کرنے یا وضاحت طلب کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی پہلو ہاتھ آجاتا ہے۔ اور جب بات کے پہلو کثیر ہوں تو بات بدلنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ یعنی نکتے سے نکتہ برآمد ہوتا ہے۔ شفق سوپوری
Related Sher
یہ ا پیش بات کہ خاموش کھڑے رہتے ہیں پھروں بھی جو لوگ بڑے ہیں حقیقت بڑے رہتے ہیں
Rahat Indori
484 likes
کوئی دقت نہیں ہے گر تمہیں الجھا سا لگتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ملنے ہے وہ ہے وہ سب کو ایسا لگتا ہوں ضروری تو نہیں ہم ساتھ ہیں تو کوئی چکر ہوں حقیقت مری دوست ہے اور ہے وہ ہے وہ اسے ب سے اچھا لگتا ہوں
Ali Zaryoun
521 likes
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر ہے وہ ہے وہ رہا
Ahmad Faraz
594 likes
ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا
Bashir Badr
373 likes
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
Allama Iqbal
354 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Bekhud Dehlvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Bekhud Dehlvi's sher.







