بڑھ کے طوفان کو آغوش میں لے لے اپنی ڈوبنے والے ترے ہاتھ سے ساحل تو گیا
Related Sher
کسی گلی ہے وہ ہے وہ کرائے پہ گھر لیا ا سے نے پھروں ا سے گلی ہے وہ ہے وہ گھروں کے کرائے بڑھنے لگے
Umair Najmi
162 likes
کوئی دقت نہیں ہے گر تمہیں الجھا سا لگتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ملنے ہے وہ ہے وہ سب کو ایسا لگتا ہوں ضروری تو نہیں ہم ساتھ ہیں تو کوئی چکر ہوں حقیقت مری دوست ہے اور ہے وہ ہے وہ اسے ب سے اچھا لگتا ہوں
Ali Zaryoun
521 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا
Javed Akhtar
156 likes
شاخوں سے ٹوٹ جائیں حقیقت پتے نہیں ہیں ہم آندھی سے کوئی کہ دے کہ اوقات ہے وہ ہے وہ رہے
Rahat Indori
435 likes
سوچوں تو ساری عمر محبت ہے وہ ہے وہ کٹ گئی دیکھوں تو ایک بے وجہ بھی میرا نہیں ہوا
Jaun Elia
545 likes
More from Abdul Hamid Adam
بڑھ کے طوفان کو آغوش ہے وہ ہے وہ لے لے اپنی ڈوبنے والے تری ہاتھ سے ساحل تو گیا تو
Abdul Hamid Adam
23 likes
دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں دوستوں کی مہربانی چاہیے
Abdul Hamid Adam
29 likes
حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہوں جھوٹی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ضرور کھایا کروں
Abdul Hamid Adam
43 likes
پھروں آج عدم شام سے غمگین ہے طبیعت پھروں آج سر شام ہے وہ ہے وہ کچھ سوچ رہا ہوں
Abdul Hamid Adam
25 likes
کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں جا مختلف سے مری جوانی اٹھا کے لا
Abdul Hamid Adam
43 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abdul Hamid Adam.
Similar Moods
More moods that pair well with Abdul Hamid Adam's sher.







