برابر ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے کنوؤں سے پن گھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے
Related Sher
بچھڑ کر ا سے کا دل لگ بھی گیا تو تو کیا لگے گا حقیقت تھک جائےگا اور مری گلے سے آ لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مشکل ہے وہ ہے وہ تمہارے کام آؤں یا نا آؤں مجھے آواز دے لینا تمہیں اچھا لگے گا
Tehzeeb Hafi
751 likes
مجھ کو بدن نصیب تھا پر روح کے بغیر ا سے نے دیا بھی پھول تو خوشبو نکال کر
Ankit Maurya
64 likes
تمہارے آنے کی امید بر معین نہیں آتی ہے وہ ہے وہ ہے وہ راکھ ہونے لگا ہوں دیے جلاتے ہوئے
Azhar Iqbal
57 likes
کبھی عشق کروں اور پھروں دیکھو ا سے آگ ہے وہ ہے وہ جلتے رہنے سے کبھی دل پر آنچ نہیں آتی کبھی رنگ خراب نہیں ہوتا
Saleem Kausar
39 likes
جب چاہیں سو جاتے تھے ہم جاناں سے باتیں کر کے تب الٹی گنتی گننے سے بھی نیند نہیں آتی ہے اب عشق محبت پر تاکتے کے شعر سنائے اس کا کو جب پہلے تھوڑا شرمائی حقیقت پھروں بولی ا سے زار
Tanoj Dadhich
58 likes
More from Kaif Bhopali
یہ تلکداریاں یہ چلتی نہیں مکاریاں ہمارے عہد ہے وہ ہے وہ خیرو نہیں مکاریاں قبیلے والوں کے دل جوڑیے مری سردار سروں کو کاٹ کے سرداریاں نہیں مکاریاں
Kaif Bhopali
22 likes
ج سے دن مری جبیں کسی دہلیز پر جھکے ا سے دن خدا شگاف مری سر ہے وہ ہے وہ ڈال دے
Kaif Bhopali
29 likes
ماں کی آغوش ہے وہ ہے وہ کل موت کی آغوش ہے وہ ہے وہ آج ہم کو دنیا ہے وہ ہے وہ یہ دو سمے سہانے سے ملے
Kaif Bhopali
28 likes
تھوڑا سا عک سے چاند کے پیکر ہے وہ ہے وہ ڈال دے تو آ کے جان رات کے منظر ہے وہ ہے وہ ڈال دے
Kaif Bhopali
26 likes
زندگی شاید اسی کا نام ہے دوریاں مجبوریاں تنہائیاں
Kaif Bhopali
50 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kaif Bhopali.
Similar Moods
More moods that pair well with Kaif Bhopali's sher.







