ب سے یوں ہی دل کو توقع سی ہے تجھ سے ور لگ جانتا ہوں کہ مقدر ہے میرا تنہائی
Related Sher
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے خوش رکھنے کو تاکتے یہ خیال اچھا ہے
Mirza Ghalib
489 likes
ہم کو دل سے بھی نکالا گیا تو پھروں شہر سے بھی ہم کو پتھر سے بھی مارا گیا تو پھروں زہر سے بھی
Azm Shakri
157 likes
اسی لیے تو ہے وہ ہے وہ رویا نہیں بچھڑتے سمے تجھے روا لگ کیا ہے جدا نہیں کیا ہے
Ali Zaryoun
183 likes
لے دے کے اپنے پا سے فقط اک نظر تو ہے کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم
Sahir Ludhianvi
174 likes
ہوئی مدت کہ تاکتے مر گیا تو پر یاد آتا ہے حقیقت ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
Mirza Ghalib
149 likes
More from Nasir Kazmi
दिन भर तो मैं दुनिया के धंदों में खोया रहा जब दीवारों से धूप ढली तुम याद आए
Nasir Kazmi
0 likes
ک ہاں ہے تو کہ تری انتظار ہے وہ ہے وہ اے دوست تمام رات دستور ہیں دل کے ویرانے
Nasir Kazmi
21 likes
جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی دل پامال آ گیا تو
Nasir Kazmi
12 likes
ا نہیں صدیوں لگ بھولےگا زما لگ ی ہاں جو حادثے کل ہوں گئے ہیں
Nasir Kazmi
26 likes
جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر حقیقت لوگ آنکھوں سے اوجھل ہوں گئے ہیں
Nasir Kazmi
29 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nasir Kazmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Nasir Kazmi's sher.







