بھیگی ہوئی اک شام کی دہلیز پہ بیٹھے ہم دل کے سلگنے کا سبب سوچ رہے ہیں
Related Sher
ہم کو دل سے بھی نکالا گیا تو پھروں شہر سے بھی ہم کو پتھر سے بھی مارا گیا تو پھروں زہر سے بھی
Azm Shakri
157 likes
اپنے دل ہے وہ ہے وہ تقاضا ہم کو اور گلے سے لگاوگے ہم کو ہم نہیں اتنے پیار کے قابل جاناں تو پاگل بناؤگے ہم کو
Abrar Kashif
106 likes
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو لگ جانے ک سے گلی ہے وہ ہے وہ زندگی کی شام ہوں جائے
Bashir Badr
111 likes
بٹھا دیا ہے سپاہی کے دل ہے وہ ہے وہ ڈر ا سے نے تلاشی دی ہے دوپٹہ اتار کر ا سے نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے بھی اسے خود کشی سے روکتا ہوں لکھا ہوا ہے میرا نام جسم پر ا سے نے
Zia Mazkoor
106 likes
سبھی کا خون ہے شامل ی ہاں کی مٹی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے
Rahat Indori
144 likes
More from Shakeb Jalali
دل سا انمول اندھیرا کون خریدےگا شکیب جب بکےگا تو یہ بے دام ہی بک جائےگا
Shakeb Jalali
7 likes
यही दीवार-ए-जुदाई है ज़माने वालो हर घड़ी कोई मुक़ाबिल में खड़ा रहता है
Shakeb Jalali
7 likes
دل کے ویرانے ہے وہ ہے وہ اک پھول کھلا رہتا ہے کوئی موسم ہوں میرا زخم ہرا رہتا ہے
Shakeb Jalali
9 likes
سمے نے یہ کہا ہے رک رک کر آج کے دوست کل کے بیگا لگ
Shakeb Jalali
13 likes
سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لبا سے ہے وہ ہے وہ
Shakeb Jalali
10 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shakeb Jalali.
Similar Moods
More moods that pair well with Shakeb Jalali's sher.







