بھوکے کو تو جل پان کرایا کر مذہب سے اوپر بھی اٹھ جایا کر ہے وہ ہے وہ ہے وہ مندر جاتا ہوں تری خاطر تو بھی مسجد ہے وہ ہے وہ نیر چڑھایا کر
Related Sher
پانی آنکھ ہے وہ ہے وہ بھر کر لایا جا سکتا ہے اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے
Abbas Tabish
55 likes
جاناں نے کیسے ا سے کے جسم کی خوشبو سے انکار کیا ا سے پر پانی پھینک کے دیکھو کچی مٹی جیسا ہے
Tehzeeb Hafi
102 likes
کبوتر عشق کا اترے تو کیسے تمہاری چھت پہ نگرانی بے حد ہے ارادہ کر لیا گر خود کشی کا تو خود کی آنکھ کا پانی بے حد ہے
Kumar Vishwas
93 likes
خود کو اتنا بھی مت بچایا کر بارشیں ہوں تو بھیگ جایا کر کام لے کچھ حسین ہونٹوں سے باتوں باتوں ہے وہ ہے وہ مسکرایا کر
Shakeel Azmi
101 likes
خواب پلکوں کی ہتھیلی پہ چنے رہتے ہیں کون جانے حقیقت کبھی نیند چرانے آئی مجھ پہ اترے مری الہام کی بارش بن کر مجھ کو اک بوند سمندر ہے وہ ہے وہ چھپانے آئی
Khalil Ur Rehman Qamar
42 likes
More from Vijay Potter Singhadiya
توڑ دےگی حقیقت بھروسا پھروں کروں گا ہے وہ ہے وہ یقین خیر ہے وہ ہے وہ تو جانتا بھی ہوں کہ دنیا گول ہے
Vijay Potter Singhadiya
7 likes
شعر اچھا تو نہیں ہے دوست پر تری چہرے پہ خوشی تو آ گئی
Vijay Potter Singhadiya
7 likes
شاعر ہوں پگلی سب کو یہ ہی کہتا ہوں تری لیے ہی تو یہ شعر کہا ہے ہے وہ ہے وہ نے
Vijay Potter Singhadiya
7 likes
موقع مل جائے تو کافی نہیں ملتا ڈوبوگے الفت ہے وہ ہے وہ لون نہیں ملتا یہ لڑ کیوں کا ایک بہانا ہوتا ہے ماں گھر پہ رہتی ہے فون نہیں ملتا
Vijay Potter Singhadiya
7 likes
اک دم دار اک تازہ شعر سنا لیتے ہیں بیکاری ہے تو اب لوگ مزہ لیتے ہیں شعر تو کیا جاناں یار غزل ہی چرا لو مری والد کا بستر جاں تو بچے کھا لیتے ہیں
Vijay Potter Singhadiya
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vijay Potter Singhadiya.
Similar Moods
More moods that pair well with Vijay Potter Singhadiya's sher.







