دولتیں ہوں شہرتیں ہوں کامیابی چار سو آدمی در آدمی اب سو طرح کی پیا سے ہیں
Related Sher
لکھ کے انگلی سے دھول پہ کوئی خود ہنسا اپنی بھول پہ کوئی یاد کر کے کسی کے چہرے کو رکھ گیا تو ہونٹ پھول پہ کوئی
Sandeep Thakur
77 likes
فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا لگ تھا سامنے بیٹھا تھا مری اور حقیقت میرا لگ تھا
Adeem Hashmi
94 likes
سمے رہتا نہیں کہی ٹک کر عادت ا سے کی بھی آدمی سی ہے
Gulzar
113 likes
اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری لوگ تجھ کو میرا محبوب سمجھتے ہوں گے
Bashir Badr
112 likes
ا سے کی تصویریں ہیں دلکش تو ہوںگی جیسی دیواریں ہیں ویسا سایہ ہے ایک ہے وہ ہے وہ ہوں جو تری قتل کی کوشش ہے وہ ہے وہ تھا ایک تو ہے جو جیل ہے وہ ہے وہ خا لگ لایا ہے
Tehzeeb Hafi
192 likes
More from nakul kumar
تو ا گر حاصل نہیں تو سب برابر ہیں ادھر دوستی بھی دشمنی بھی موت کیا محبوب بھی
nakul kumar
5 likes
اب تو ہونے سے رہا جذبات پہ آب ایک بلبل نے کہا ہے باج کو بابو گھر سے نکلے ہیں م گر راہیں نہیں دیکھیں پتھروں ہے وہ ہے وہ پھرتے ہیں جو آب و بلوری
nakul kumar
5 likes
کہو کیا ہوں گیا تو جو مل لگ پائے یار سے اپنے نہارو چاند کو پھروں یار کے گھر دوار کو دیکھو
nakul kumar
1 likes
تمہیں جب سمے مل جائے چلے آنا کبھی ملنے ابھر آئی ہیں کچھ باتیں وہی سب بات کرنی ہیں تری آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہ کر پھروں نئے کچھ دن لکیریں ہیں تری زلفوں تلے حقیقت کچھ پرانی رات کرنی ہیں
nakul kumar
1 likes
کچھ نہیں ہے زندگی برباد ہے اب تو مر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ محبت کو منانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے بھی گر ہوں سکے مجھ کو رہا کر دے رہ نہیں سکتا ہے وہ ہے وہ اب ا سے قید خانے ہے وہ ہے وہ
nakul kumar
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on nakul kumar.
Similar Moods
More moods that pair well with nakul kumar's sher.







