دلوں کی باتیں دلوں کے اندر ذرا سی ضد سے دبی ہوئی ہیں حقیقت سننا چاہیں زبان سے سب کچھ ہے وہ ہے وہ کرنا چا ہوں نظر سے بتیاں یہ عشق کیا ہے یہ عشق کیا ہے یہ عشق کیا ہے یہ عشق کیا ہے سلگتی سانسیں مشین آنکھیں مچلتی روحیں دھڑکتی چھتیاں
Related Sher
آج کا دن بھی عیش سے گزرا سر سے پاؤں تک بدن سلامت ہے
Jaun Elia
166 likes
ذرا ٹھہرو کہ شب فیکی بے حد ہے تمہیں گھر جانے کی جل گرا بے حد ہے ذرا نزدیک آ کر بیٹھ جاؤ تمہارے شہر ہے وہ ہے وہ سر گرا بے حد ہے
Zubair Ali Tabish
173 likes
خوشبو کی برسات نہیں کر پاتے ہیں ہم خود ہی شروعات نہیں کر پاتے ہیں ج سے لڑکی کی باتیں کرتے ہیں سب سے ا سے لڑکی سے بات نہیں کر پاتے ہیں
Gyan Prakash Akul
83 likes
مری اندر سے آ جاؤ باہر گہما گہمی ہے ایک بدن ہے وہ ہے وہ دو لوگوں کو کیسے گھر لے جاؤں گا
nakul kumar
75 likes
یہ تو جو محبت ہے وہ ہے وہ صلہ مانگ رہا ہے اے بے وجہ تو اندر سے بھکاری تو نہیں ہے
Ali Zaryoun
73 likes
More from Aalok Shrivastav
یہی تو ایک تمنا ہے ا سے مسافر کی جو جاناں نہیں تو سفر ہے وہ ہے وہ تمہارا پیار چلے
Aalok Shrivastav
24 likes
پچھلے بر سے بھی ہم نے کلائی سجائی تھی راکھی کے دھاگے آج بھی کچے نہیں پڑے
Aalok Shrivastav
34 likes
آ ہی گئے ہیں خواب تو پھروں جائیں گے ک ہاں آنکھوں سے آگے ان کی کوئی رہگزر نہیں
Aalok Shrivastav
29 likes
نزدیکی 9 دوری کا کارن بھی بن جاتی ہے گھلنا ملنا کر رشتے داروں اپنے ڈگر ہے وہ ہے وہ
Aalok Shrivastav
34 likes
اب تو خود اپنے خون نے بھی صاف کہ دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آپ کا ر ہوں گا م گر عمر بھر نہیں
Aalok Shrivastav
27 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Aalok Shrivastav.
Similar Moods
More moods that pair well with Aalok Shrivastav's sher.







