دکھے ہوئے لوگوں کی پھوڑی رگ کو چھونا ٹھیک نہیں سمے نہیں پوچھا کرتے ہیں یاروں سمے کے ماروں سے
Related Sher
اور پھروں ایک دن بیٹھے بیٹھے مجھے اپنی دنیا بری لگ گئی ج سے کو آباد کرتے ہوئے مری ماں باپ کی زندگی لگ گئی
Tehzeeb Hafi
207 likes
یہ ہم ہی ہیں کہ کسی کے ا گر ہوئے تو ہوئے تمہارا کیا ہے کوئی ہوگا کوئی تھا کوئی ہے
Irfan Sattar
66 likes
تری لگائے ہوئے زخم کیوں نہیں بھرتے مری لگائے ہوئے پیڑ سوکھ جاتے ہیں
Tehzeeb Hafi
200 likes
کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
Rehman Faris
61 likes
اسی مقام پہ کل مجھ کو دیکھ کر تنہا بے حد ادا سے ہوئے پھول بیچنے والے
Jamal Ehsani
64 likes
More from Vashu Pandey
باقی سارے کام دل بیمار عشق کیا صبح سے لے کر شام برابر عشق کیا غلطی یہ تھوڑے تھی عشق کیا ہم نے غلطی یہ تھی غیر برادر عشق کیا
Vashu Pandey
29 likes
اتنے ک ہاں نصیب کہ ا سے سے پیا سے بجھائیں کھیل کریں دریا ہم چنو کو اپنے پا سے بٹھا لے کافی ہے
Vashu Pandey
34 likes
بجز خدا کے کسی کا ہم پہ کرم نہیں ہے یہ کم نہیں ہے کسی کا سجدہ جبیں پہ اپنی رقم نہیں ہے یہ کم نہیں ہے ہماری چپپی یہ ہے غنیمت وگر لگ یہ جو کیا ہے جاناں نے یقین مانو ہمارا ماتھا گرم نہیں ہے یہ کم نہیں ہے
Vashu Pandey
30 likes
اتنے گہرے اتر گیا تو ہوں دریا غزلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاتھ پکڑ کر کھینچ لے ورنا ڈوب کے بھی مر سکتا ہوں کٹے خنجر رسی ماچ سے کچھ دن مجھ سے دور رکھو کچھ کرنے سے چوک گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہوں
Vashu Pandey
36 likes
عشق قی سے فرہاد رومیو چنو ہی کر سکتے ہیں ہم تو ٹھہرے د سے سے چھہ تک آف سے جانے والے لوگ
Vashu Pandey
31 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vashu Pandey.
Similar Moods
More moods that pair well with Vashu Pandey's sher.







