ایک چہرے سے اترتی ہیں نقابیں کتنی لوگ کتنے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک بے وجہ ہے وہ ہے وہ مل جاتے ہیں
Related Sher
ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا
Bashir Badr
373 likes
جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
368 likes
کوئی دقت نہیں ہے گر تمہیں الجھا سا لگتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ملنے ہے وہ ہے وہ سب کو ایسا لگتا ہوں ضروری تو نہیں ہم ساتھ ہیں تو کوئی چکر ہوں حقیقت مری دوست ہے اور ہے وہ ہے وہ اسے ب سے اچھا لگتا ہوں
Ali Zaryoun
521 likes
یہ ا پیش بات کہ خاموش کھڑے رہتے ہیں پھروں بھی جو لوگ بڑے ہیں حقیقت بڑے رہتے ہیں
Rahat Indori
484 likes
دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں
Varun Anand
300 likes
More from Khalil Ur Rehman Qamar
اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ قمر جھانک کے کیسے دیکھوں مجھ سے دیکھے ہوئے منظر نہیں دیکھے جاتے
Khalil Ur Rehman Qamar
25 likes
مجھ سے دامن نہ چھڑا مجھ کو بچا کر رکھ لے مجھ سے اک روز تجھے پیار بھی ہو سکتا ہے
Khalil Ur Rehman Qamar
0 likes
لفظ کتنے ہی تیرے پیروں سے لپٹے ہوں گے تو نے جب آخری خط میرا جلایا ہوگا تو نے جب پھول کتابوں سے نکالے ہوں گے دینے والا بھی تجھے یاد تو آیا ہوگا
Khalil Ur Rehman Qamar
30 likes
خلاف شرط انا تھا حقیقت خواب ہے وہ ہے وہ بھی ملے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نیند نیند کو دراڑیں م گر نہیں سویا خلاف موسم دل تھا کہ تھم گئی بارش خلاف غربت غم ہے کہ ہے وہ ہے وہ نہیں رویا
Khalil Ur Rehman Qamar
52 likes
کچھ لگ رہ سکا ج ہاں ویرانیاں تو رہ گئیں جاناں چلے گئے تو کیا اندھیرا تو رہ گئیں
Khalil Ur Rehman Qamar
164 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Khalil Ur Rehman Qamar.
Similar Moods
More moods that pair well with Khalil Ur Rehman Qamar's sher.







