ایک دریا ہے ی ہاں پر دور تک پھیلا ہوا آج اپنے حسن دلآویز کو دیکھ پتواریں لگ دیکھ
Related Sher
سوچوں تو ساری عمر محبت ہے وہ ہے وہ کٹ گئی دیکھوں تو ایک بے وجہ بھی میرا نہیں ہوا
Jaun Elia
545 likes
لے دے کے اپنے پا سے فقط اک نظر تو ہے کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم
Sahir Ludhianvi
174 likes
نام پہ ہم قربان تھے ا سے کے لیکن پھروں یہ طور ہوا ا سے کو دیکھ کے رک جانا بھی سب سے بڑی قربانی تھی مجھ سے بچھڑ کر بھی حقیقت لڑکی کتنی خوش خوش رہتی ہے ا سے لڑکی نے مجھ سے بچھڑ کر مر جانے کی ٹھانی تھی
Jaun Elia
183 likes
کوئی سمندر کوئی ن گرا ہوتی کوئی دریا ہوتا ہم جتنے پیاسے تھے ہمارا ایک گلا سے سے کیا ہوتا طعنہ دینے سے اور ہم پہ شک کرنے سے بہتر تھا گلے لگا کے جاناں نے ہجرت کا دکھ باٹ لیا ہوتا
Tehzeeb Hafi
164 likes
مسئلہ یہ نہیں کہ عشق ہوا ہے ہم کو مسئلہ یہ ہے کہ اظہار کیا جانا ہے
Rajesh Reddy
127 likes
More from Dushyant Kumar
آج سڑکوں پر لکھے ہیں سیکڑوں نعرے لگ دیکھ پر اندھیرا دیکھ تو آکاش کے تارے لگ دیکھ
Dushyant Kumar
26 likes
یہ سچ ہے کہ پاؤں نے بے حد کشت اٹھائے پر پاؤں کسی طرح را ہوں پہ تو آئی
Dushyant Kumar
28 likes
دھوپ یہ اٹھکھیلیاں ہر روز کرتی ہے ایک چھایا سیڑھیاں چڑھتی اترتی ہے یہ دیا چوراستے کا اوٹ ہے وہ ہے وہ لے لو آج آندھی گاؤں سے ہوں کر گزرتی ہے
Dushyant Kumar
18 likes
ی ہاں درختوں کے سائے ہے وہ ہے وہ دھوپ لگتی ہے چلو ی ہاں سے چلیں اور عمر بھر کے لیے
Dushyant Kumar
17 likes
آپ دستانے پہن کر چھو رہے ہیں آگ کو آپ کے بھی خون کا رنگ ہوں گیا تو ہے سانولا
Dushyant Kumar
26 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Dushyant Kumar.
Similar Moods
More moods that pair well with Dushyant Kumar's sher.







