فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئے درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی
Related Sher
ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا
Bashir Badr
373 likes
گھر ہے وہ ہے وہ بھی دل نہیں لگ رہا کام پر بھی نہیں جا رہا جانے کیا خوف ہے جو تجھے چوم کر بھی نہیں جا رہا رات کے تین بجنے کو ہے یار یہ کیسا محبوب ہے جو گلے بھی نہیں لگ رہا اور گھر بھی نہیں جا رہا
Tehzeeb Hafi
294 likes
اب ضروری تو نہیں ہے کہ حقیقت سب کچھ کہ دے دل ہے وہ ہے وہ جو کچھ بھی ہوں آنکھوں سے نظر آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے صرف یہ کہتا ہوں کہ گھر جانا ہے اور حقیقت مارنے مرنے پہ اتر آتا ہے
Tehzeeb Hafi
285 likes
دھوپ ہے وہ ہے وہ نکلو گھٹاؤں ہے وہ ہے وہ نہا کر دیکھو زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو
Nida Fazli
136 likes
ایک آواز کہ جو مجھ کو بچا لیتی ہے زندگی آخری لمحوں ہے وہ ہے وہ منا لیتی ہے ج سے پہ مرتی ہوں اسے مڑ کے نہیں دیکھتی حقیقت اور جسے مارنا ہوں یار بنا لیتی ہے
Ali Zaryoun
133 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Naseer Ahmad Nasir.
Similar Moods
More moods that pair well with Naseer Ahmad Nasir's sher.







