غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں
Related Sher
اب لگتا ہے ٹھیک کہا تھا تاکتے نے بڑھتے بڑھتے درد دوا ہوں جاتا ہے
Madan Mohan Danish
131 likes
یہ دکھ ا پیش ہے کہ ا سے سے ہے وہ ہے وہ دور ہوں رہا ہوں یہ غم جدا ہے حقیقت خود مجھے دور کر رہا ہے تری چیزیں پر لکھ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ تازہ غزلیں یہ تیرا غم ہے جو مجھ کو مشہور کر رہا ہے
Tehzeeb Hafi
394 likes
گلاب خواب دوا زہر جام کیا کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ گیا تو ہوں بتا انتظام کیا کیا ہے
Rahat Indori
263 likes
آنکھ ہے وہ ہے وہ نمہ تک آ پہنچا ہوں ا سے کے غم تک آ پہنچا ہوں پہلی بار محبت کی تھی آخری دم تک آ پہنچا ہوں
Khalil Ur Rehman Qamar
99 likes
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ
Allama Iqbal
296 likes
More from Mirza Ghalib
بیداد عشق سے نہیں ڈرتا م گر سرسری ج سے دل پہ ناز تھا مجھے حقیقت دل نہیں رہا
Mirza Ghalib
7 likes
کی مری قتل کے بعد ا سے نے کہوں سے توبہ ہاں یہ ا سے زود پشیمان کا پشیمان ہونا
Mirza Ghalib
8 likes
سب ک ہاں کچھ لالا و گل ہے وہ ہے وہ نمائیں ہوں گئیں خاک ہے وہ ہے وہ کیا صورتیں ہوںگی کہ پن ہاں ہوں گئیں
Mirza Ghalib
0 likes
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہا گل کہتے ہیں ج سے کو عشق خلل ہے دماغ کا
Mirza Ghalib
15 likes
یا رب حقیقت لگ سمجھے ہیں لگ بھلاکر مری بات دے اور دل ان کو جو لگ دے مجھ کو زبان اور
Mirza Ghalib
19 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's sher.







