گئیں جو سردیاں درخت سوکھنے لگے ہوا بھی چیخنے لگی یہ دن ادا سے ہیں انہی دنوں کی اک سحر جدا ہوئے تھے ہم اسی لیے تو آج بھی یہ دن ادا سے ہیں
Related Sher
تیری نگاہ ناز سے چھوٹے ہوئے درخت مر جائیں کیا کریں بتا سوکھے ہوئے درخت حیرت ہے پیڑ نیم کے دینے لگے ہیں آم پگلا گئے ہیں آپ کے چو گرد امیر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوئے درخت
Varun Anand
96 likes
تاری کیوں کو آگ لگے اور دیا جلے یہ رات بین کرتی رہے اور دیا جلے ا سے کی زبان ہے وہ ہے وہ اتنا اثر ہے کہ نصف شب حقیقت روشنی کی بات کرے اور دیا جلے
Tehzeeb Hafi
103 likes
کسی گلی ہے وہ ہے وہ کرائے پہ گھر لیا ا سے نے پھروں ا سے گلی ہے وہ ہے وہ گھروں کے کرائے بڑھنے لگے
Umair Najmi
162 likes
عشق پر زور نہیں ہے یہ حقیقت آتش تاکتے کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
Mirza Ghalib
93 likes
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک شام چرا لوں ا گر برا لگ لگے
Qaisar-ul-Jafri
94 likes
More from Mohit Dixit
ا سے کہانی ہے وہ ہے وہ کہی نام ہمارا بھی تو تھا ا سے سے کہنا کہ سکندر کبھی ہارا بھی تو تھا
Mohit Dixit
1 likes
ذہن و دل ہے وہ ہے وہ میرے پیچ ہے اک پھسی تجھ کو جانا ہے تو جا چلا جا ابھی عشق ہے تجھ سے یا ہے قافیو دل لگی تجھ کو جانا ہے تو جا چلا جا ابھی یہ مقدم بھی آساں نہیں ہم سفر موڑ آنے ہیں آئیں گے آگے مگر گھر پلٹنے کا یہ موڑ ہے آخری تجھ کو جانا ہے تو جا چلا جا ابھی
Mohit Dixit
2 likes
لگ پہلا تھا لگ ہوں ہے وہ ہے وہ آخری ہی بزم جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر ہے وہ ہے وہ چاہتا تھا سلسلہ مجھ پہ رکا ہوتا
Mohit Dixit
2 likes
ی ہاں تک آنے سے پہلے یہ ہم بھی سوچتے تھے یہ لوگ ناچتے کیوں ہیں ادا سے گانوں پر
Mohit Dixit
2 likes
تمہیں یقین نہیں آئےگا لیکن ہے وہ ہے وہ سچ کہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے انسان کو دیکھا بھی ہے اور زیا بھی ہے
Mohit Dixit
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mohit Dixit.
Similar Moods
More moods that pair well with Mohit Dixit's sher.







