ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
Related Sher
ہم حقیقت ہیں جو خدا کو بھول گئے جاناں مری جان ک سے گمان ہے وہ ہے وہ ہوں
Jaun Elia
563 likes
مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی
Ismail Raaz
140 likes
ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
136 likes
بات کروں روٹھے یاروں سے سناٹوں سے ڈر جاتے ہیں پیار اکیلا جی لیتا ہے دوست اکیلے مر جاتے ہیں
Kumar Vishwas
141 likes
یہ ا پیش بات کہ خاموش کھڑے رہتے ہیں پھروں بھی جو لوگ بڑے ہیں حقیقت بڑے رہتے ہیں
Rahat Indori
484 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
انہی کے فیض سے بازار عقل روشن ہے جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
Faiz Ahmad Faiz
20 likes
بول کہ لب آزاد ہیں تری بول زبان اب تک تیری ہے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے م گر ہمدم وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں
Faiz Ahmad Faiz
25 likes
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر حقیقت انتظار تھا ج سے کا یہ حقیقت سحر تو نہیں
Faiz Ahmad Faiz
21 likes
حقیقت بات سارے فسانے ہے وہ ہے وہ ج سے کا ذکر لگ تھا حقیقت بات ان کو بے حد ناگوار گزری ہے
Faiz Ahmad Faiz
28 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's sher.







