ہم محنتکش ا سے دنیا سے جب اپنا حصہ مانگیں گے اک باغ نہیں اک کھیت نہیں ہم ساری دنیا مانگیں گے
Related Sher
کوئی کانٹا کوئی پتھر نہیں ہے تو پھروں تو سیدھے رستے پر نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے دنیا کے اندر رہ رہا ہوں م گر دنیا مری اندر نہیں ہے
Zubair Ali Tabish
97 likes
جو طوفانوں ہے وہ ہے وہ پالتے جا رہے ہیں وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں
Jigar Moradabadi
97 likes
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
Mirza Ghalib
97 likes
لڑ سکو دنیا سے جذبوں ہے وہ ہے وہ حقیقت شدت چاہیے عشق کرنے کے لیے اتنی تو ہمت چاہیے کم سے کم ہے وہ ہے وہ نے چھپا لی دیکھ کر سگریٹ تمہیں اور ا سے لڑکے سے جاناں کو کتنی عزت چاہیے
Nadeem Shaad
82 likes
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے لگ جانے گل ہی لگ جانے باغ تو سارا جانے ہے
Meer Taqi Meer
77 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
انہی کے فیض سے بازار عقل روشن ہے جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
Faiz Ahmad Faiz
20 likes
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر حقیقت انتظار تھا ج سے کا یہ حقیقت سحر تو نہیں
Faiz Ahmad Faiz
21 likes
زندگی کیا کسی مفل سے کی قباء ہے ج سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
Faiz Ahmad Faiz
25 likes
یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے م گر ہمدم وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں
Faiz Ahmad Faiz
25 likes
دل سے تو ہر معاملہ کر کے چلے تھے صاف ہم کہنے ہے وہ ہے وہ ان کے سامنے بات بدل بدل گئی
Faiz Ahmad Faiz
27 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's sher.







