ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Related Sher
خو گرا کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
Allama Iqbal
471 likes
ہم کو دل سے بھی نکالا گیا تو پھروں شہر سے بھی ہم کو پتھر سے بھی مارا گیا تو پھروں زہر سے بھی
Azm Shakri
157 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے
Jaun Elia
206 likes
ا گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے ذرا سی بوندابان گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے یہ راہ عشق ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں محبت اڑانی والوں کے ب سے کی بات تھوڑی ہے
Abrar Kashif
221 likes
بات ہی کب کسی کی معنی ہے اپنی ہٹھ پوری کر کے موڑوگی یہ کلائی یہ جسم اور یہ کمر تراش جاناں سراحی ضرور توڑوگی
Jaun Elia
161 likes
More from Rahat Indori
گزشتہ سال کے زخموں ہرے بھرے رہنا جلو سے اب کے بر سے بھی یہیں سے نکلےگا
Rahat Indori
10 likes
اے وطن اک روز تیری خاک ہے وہ ہے وہ کھو جائیں گے سو جائیں گے مر کے بھی رشتہ نہیں چھوٹےگا ہندوستان سے ایمان سے
Rahat Indori
18 likes
ہے وہ ہے وہ اہمیت بھی سمجھتا ہوں قہق ہوں کی م گر مزہ کچھ اپنا ا پیش ہے ادا سے ہونے کا
Rahat Indori
19 likes
بوتلیں کھول کر تو پی برسوں آج دل کھول کر بھی پی جائے
Rahat Indori
37 likes
ہے وہ ہے وہ آخر کون سا موسم تمہارے نام کر دیتا ی ہاں ہر ایک موسم کو گزر جانے کی جل گرا تھی
Rahat Indori
41 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rahat Indori.
Similar Moods
More moods that pair well with Rahat Indori's sher.







