ہماری گائکی کی بنیاد طبلے پر ہے۔ گفتگو کی بنیاد گالی پر۔
Related Sher
گالی کو پرنام سمجھنا پڑتا ہے مدھوشالا کو دھام سمجھنا پڑتا ہے آدھونک کہلانے کی اندھی جد میں راون کو بھی رام سمجھنا پڑتا ہے
Azhar Iqbal
99 likes
موت نے ساری رات ہماری نبض ٹٹولی ایسا مرنے کا ماحول بنایا ہم نے گھر سے نکلے چوک گئے پھروں پارک ہے وہ ہے وہ بیٹھے تنہائی کو جگہ جگہ بکھرایا ہم نے
Shariq Kaifi
59 likes
واقف ک ہاں زما لگ ہماری اڑان سے حقیقت اور تھے جو ہار گئے آسمان سے
Faheem Jogapuri
85 likes
ہماری مسکراہٹ لازمی ہے کہ ہم ان کی گلی سے آ رہے ہیں
Bhaskar Shukla
55 likes
ہماری مرضی سے اب کیا بدلنے والا ہے تمہارے قبضے ہے وہ ہے وہ ووٹنگ قید ہستی ہے صاحب
Varun Anand
55 likes
More from Mushtaq Ahmad Yusufi
یہ زندگی کی دوڑ دوڑکر ملا ہی کیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ جیتا بے وجہ گھر جا پاتا ہے لگ ہارا بے وجہ ہی
0 likes
زندگی کا ہر ورق با شوق پڑھیے یہ کتاب اک روز لوٹانی بھی تو ہے
0 likes
زندگی بھر یوں مری دل کو دکھایا تھا بے حد قبر پر آیا ہے حقیقت مجھ سے سندلی کے لیے
0 likes
ज़िंदगी भर मैं बोलूँगा तुझ को इश्क़ का यूँँ दग़ाबाज़ है तू
0 likes
یاد کروں گا اتنی شدت سے رب کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری عبادت سے تیرا چہرہ نکھرےگا
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mushtaq Ahmad Yusufi.
Similar Moods
More moods that pair well with Mushtaq Ahmad Yusufi's sher.







