ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر اداسی بال کھولے سو رہی ہے
Related Sher
ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
333 likes
مدتوں بعد اک بے وجہ سے ملنے کے لیے آئی لگ دیکھا گیا تو بال سنواردے گئے
Jaun Elia
314 likes
کوئی اتنا پیارا کیسے ہوں سکتا ہے پھروں سارے کا سارا کیسے ہوں سکتا ہے تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتی تری بغیر گزارا کیسے ہوں سکتا ہے
Jawwad Sheikh
163 likes
خموشی تو یہی بتلا رہی ہے اداسی را سے مجھ کو آ رہی ہے مجھے جن غلطیوں سے سیکھنا تھا وہی پھروں زندگی دوہرا رہی ہے
Vishal Singh Tabish
63 likes
اب دوست کوئی لاؤ مقابل ہے وہ ہے وہ ہمارے دشمن تو کوئی قد کے برابر نہیں نکلا
Munawwar Rana
117 likes
More from Nasir Kazmi
दिन भर तो मैं दुनिया के धंदों में खोया रहा जब दीवारों से धूप ढली तुम याद आए
Nasir Kazmi
0 likes
ا نہیں صدیوں لگ بھولےگا زما لگ ی ہاں جو حادثے کل ہوں گئے ہیں
Nasir Kazmi
26 likes
ذرا سی بات صحیح تیرا یاد آ جانا ذرا سی بات بے حد دیر تک رلاتی تھی
Nasir Kazmi
29 likes
دیکھ محبت کا جھمکے تو مجھ سے ہے وہ ہے وہ تجھ سے دور کوشش لازم ہے پیاری آگے جو اس کا کو جھمکے
Nasir Kazmi
30 likes
آرزو ہے کہ تو ی ہاں آئی اور پھروں عمر بھر لگ جائے کہی
Nasir Kazmi
33 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nasir Kazmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Nasir Kazmi's sher.







