ہمیں ہیں موجب باب فصاحت حضرت شاعرؔ زمانہ سیکھتا ہے ہم سے ہم وہ دلی والے ہیں
Related Sher
ا گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے ذرا سی بوندابان گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے یہ راہ عشق ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں محبت اڑانی والوں کے ب سے کی بات تھوڑی ہے
Abrar Kashif
221 likes
پوچھتے ہیں حقیقت کہ تاکتے کون ہے کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
Mirza Ghalib
208 likes
ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
136 likes
ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں محبت کی اسی مٹی کو ہندوستان کہتے ہیں
Rahat Indori
212 likes
بات کروں روٹھے یاروں سے سناٹوں سے ڈر جاتے ہیں پیار اکیلا جی لیتا ہے دوست اکیلے مر جاتے ہیں
Kumar Vishwas
141 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Agha Shayar Qazalbash.
Similar Moods
More moods that pair well with Agha Shayar Qazalbash's sher.







