اک زمانے تک بدن بے خواب بے آداب تھے پھر اچانک اپنی عریانی کا اندازہ ہوا
Related Sher
یہ ا پیش بات کہ خاموش کھڑے رہتے ہیں پھروں بھی جو لوگ بڑے ہیں حقیقت بڑے رہتے ہیں
Rahat Indori
484 likes
کوئی اتنا پیارا کیسے ہوں سکتا ہے پھروں سارے کا سارا کیسے ہوں سکتا ہے تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتی تری بغیر گزارا کیسے ہوں سکتا ہے
Jawwad Sheikh
163 likes
نام پہ ہم قربان تھے ا سے کے لیکن پھروں یہ طور ہوا ا سے کو دیکھ کے رک جانا بھی سب سے بڑی قربانی تھی مجھ سے بچھڑ کر بھی حقیقت لڑکی کتنی خوش خوش رہتی ہے ا سے لڑکی نے مجھ سے بچھڑ کر مر جانے کی ٹھانی تھی
Jaun Elia
183 likes
ذرہ سر زمین گوکول چھوٹی شکھ بجا را سے تجا پھروں یودھ سجا کیا پیچھے کیا آگے ہے سب کچھ رادھے رادھے ہے
Zubair Ali Tabish
118 likes
آج کا دن بھی عیش سے گزرا سر سے پاؤں تک بدن سلامت ہے
Jaun Elia
166 likes
More from Shaheen Abbas
تیری خوشبو کو لٹاتے ہوئے آتے جاتے باقی اختیار ہے جو انسان کہاں جاتا ہے
Shaheen Abbas
0 likes
حقیقت سامنے تھا تو کم کم دکھائی دیتا تھا چلا گیا تو تو برابر دکھائی دینے لگا
Shaheen Abbas
0 likes
मुझ से आगे नज़र आने में ख़ुशी थी उस की मेरी ज़ंजीर से ज़ंजीर बड़ी थी उस की
Shaheen Abbas
0 likes
اک نقش ہوں لگ پائے ادھر سے ادھر میرا جیسا تمہیں ملا تھا ہے وہ ہے وہ ویسا جدا کروں
Shaheen Abbas
0 likes
حقیقت ا سے طرح سے مجھے دیکھتا ہوا گزرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ کو بہتر دکھائی دینے لگا
Shaheen Abbas
18 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shaheen Abbas.
Similar Moods
More moods that pair well with Shaheen Abbas's sher.







