انساں کے ضمیر کو جلا دیتی ہے غربت کچھ بات ہے در ا سے کا اندھیرے ہے وہ ہے وہ کھلا ہے
Related Sher
کچھ لگ کچھ بولتے رہو ہم سے چپ رہوگے تو لوگ سن لیںگے
Fahmi Badayuni
112 likes
رام ہونے میں یا راون میں ہے انتر اتنا ایک دنیا کو خوشی دوسرا غم دیتا ہے ہم نے راون کو برس در برس جلایا ہے کون ہے وہ جو اسے پھروں سے جنم دیتا ہے
Kumar Vishwas
90 likes
ہے وہ ہے وہ کسی طرح بھی سمجھوتا نہیں کر سکتا یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں
Jawwad Sheikh
89 likes
بنسری سب سر تیاغے ہے ایک ہی سر ہے وہ ہے وہ باجے ہے حال لگ پوچھو موہن کا سب کچھ رادھے رادھے ہے
Zubair Ali Tabish
325 likes
یہ جاناں سب مل کے جو کچھ کہ رہے ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ سکتا ہوں پر کہنا نہیں ہے ہمارا شعر بھی سننے نہ آئیں ہمارا دکھ جنہیں سہنا نہیں ہے
Ali Zaryoun
88 likes
More from Navneet krishna
یقین کس طرح کوئی بچھاتی کرےگا وہ کھاتے ہیں جھوٹی قسم دیکھتے ہیں نہیں جس کی تعبیر کوئی جہاں میں وہی خواب ہم اے صنم دیکھتے ہیں
Navneet krishna
2 likes
تقدیر مری مجھ سے بغاوت یوں کر گئی چنو گلوں پہ خوشبو ہی الزام دھر گئی
Navneet krishna
4 likes
یہ درد بھی وفاؤں ہے وہ ہے وہ یوں ڈھو رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری علاوہ اور کا بھی ہوں رہا ہوں ہے وہ ہے وہ
Navneet krishna
5 likes
ٹھوکر لگےگی اور گریں گے ہزار بار ہٹکر چلیں گے گر کبھی اپنی بلبلوں سے ہم نوینیت اب ہے روشنی ہے وہ ہے وہ تیرگی ن ہاں ڈر لگ لگے ہیں آج بے حد ہی سحر سے ہم
Navneet krishna
6 likes
رہتا ہوں بے قرار سا اک ہم سفر کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اے آسمان کیا کروں گا رہگزر کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل میرا تار تار ہے ہے وہ ہے وہ کیا بتاؤں اب بولو کے کیا بتاؤں گا باد جلوہ فروش سحر کو ہے وہ ہے وہ
Navneet krishna
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Navneet krishna.
Similar Moods
More moods that pair well with Navneet krishna's sher.







