عشق سے طبیعت نے آب و زیست کا مزہ پایا درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
Related Sher
اب لگتا ہے ٹھیک کہا تھا تاکتے نے بڑھتے بڑھتے درد دوا ہوں جاتا ہے
Madan Mohan Danish
131 likes
حسن بلا کا قاتل ہوں پر آخر کو بیچارا ہے عشق تو حقیقت قاتل ج سے نے اپنوں کو بھی مارا ہے یہ دھوکے دیتا آیا ہے دل کو بھی دنیا کو بھی ا سے کے چل نے خار کیا ہے صحرا ہے وہ ہے وہ لیلیٰ کو بھی
Jaun Elia
129 likes
ا گر ہے عشق سچا تو نگا ہوں سے بیاں ہوگا زبان سے بولنا بھی کیا کوئی اظہار ہوتا ہے
Bhaskar Shukla
130 likes
آج ہم دونوں کو فرصت ہے چلو عشق کریں عشق دونوں کی ضرورت ہے چلو عشق کریں
Rahat Indori
143 likes
ہم کو نیچے اتار لیں گے لوگ عشق لٹکا رہے گا پنکھے سے
Zia Mazkoor
224 likes
More from Mirza Ghalib
لگ ستائش کی تمنا لگ صلے کی پروا گر نہیں ہیں مری اشعار ہے وہ ہے وہ معنی لگ صحیح
Mirza Ghalib
11 likes
بیداد عشق سے نہیں ڈرتا م گر سرسری ج سے دل پہ ناز تھا مجھے حقیقت دل نہیں رہا
Mirza Ghalib
7 likes
تا قیامت شب فرقت ہے وہ ہے وہ گزر جائے گی عمر سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک
Mirza Ghalib
17 likes
تیشے بغیر مر لگ سکا کوہکن سرسری سرگشتہ خمار رسوم و قیود تھا
Mirza Ghalib
13 likes
دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو لگ دے جو بوسہ تو منا سے کہی جواب تو دے
Mirza Ghalib
22 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's sher.







