عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
Related Sher
ہوا ہی کیا جو حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ملا نہیں بدن ہی صرف ایک راستہ نہیں یہ پہلا عشق ہے تمہارا سوچ لو مری لیے یہ راستہ نیا نہیں
Azhar Iqbal
298 likes
کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہیں عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مگر یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں
Tehzeeb Hafi
306 likes
آج ہم دونوں کو فرصت ہے چلو عشق کریں عشق دونوں کی ضرورت ہے چلو عشق کریں
Rahat Indori
143 likes
گلے تو لگنا ہے ا سے سے کہو ابھی لگ جائے یہی لگ ہوں میرا ا سے کے بغیر جی لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں تری پا سے یہ لگ ہوں کہ کہی تیرا مزاق ہوں اور مری زندگی لگ جائے
Tehzeeb Hafi
267 likes
سفر ہے وہ ہے وہ آخری پتھر کے بعد آئےگا مزہ تو یار دسمبر کے بعد آئےگا
Rahat Indori
121 likes
More from Mirza Ghalib
تیشے بغیر مر لگ سکا کوہکن سرسری سرگشتہ خمار رسوم و قیود تھا
Mirza Ghalib
13 likes
اپنی گلی ہے وہ ہے وہ مجھ کو لگ کر دفن باد قتل مری پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
Mirza Ghalib
13 likes
یا رب حقیقت لگ سمجھے ہیں لگ بھلاکر مری بات دے اور دل ان کو جو لگ دے مجھ کو زبان اور
Mirza Ghalib
19 likes
ک ہاں مے خانے کا دروازہ تاکتے اور ک ہاں واعظ پر اتنا جانتے ہیں کل حقیقت جاتا تھا کہ ہم نکلے
Mirza Ghalib
27 likes
دھول دھپا ا سے سرپا ناز کا شیوہ نہیں ہم ہی کر بیٹھے تھے تاکتے سانحے دستی ایک دن
Mirza Ghalib
25 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's sher.







