جو طلب پہ عہد وفا کیا تو وہ آبروئے وفا گئی سر عام جب ہوئے مدعی تو ثواب صدق و وفا گیا
Related Sher
میرا کردار میری بات کہاں سنتا ہے یہ سمجھدار میری بات کہاں سنتا ہے عشق ہے وعدہ فراموش نہیں ہے کوئی دل طلبگار میری بات کہاں سنتا ہے
Vishal Singh Tabish
66 likes
یہ ہم ہی ہیں کہ کسی کے ا گر ہوئے تو ہوئے تمہارا کیا ہے کوئی ہوگا کوئی تھا کوئی ہے
Irfan Sattar
66 likes
مدتیں گزر گئی حساب نہیں کیا لگ جانے اب ک سے کے کتنے رہ گئے ہم
Kumar Vishwas
271 likes
ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں
Ali Zaryoun
228 likes
گھٹن سی ہونے لگی ا سے کے پا سے جاتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود سے روٹھ گیا تو ہوں اسے مناتے ہوئے
Azhar Iqbal
65 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
بول کہ لب آزاد ہیں تری بول زبان اب تک تیری ہے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
انہی کے فیض سے بازار عقل روشن ہے جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
Faiz Ahmad Faiz
20 likes
زندگی کیا کسی مفل سے کی قباء ہے ج سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
Faiz Ahmad Faiz
25 likes
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر حقیقت انتظار تھا ج سے کا یہ حقیقت سحر تو نہیں
Faiz Ahmad Faiz
21 likes
لگ جانے ک سے لیے امیدوار بیٹھا ہوں اک ایسی راہ پہ جو تیری رہگزر بھی نہیں
Faiz Ahmad Faiz
26 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's sher.







