جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
Related Sher
جاناں ان کے نازکی کا ذکر ان سے کیوں کروں تاکتے یہ کیا کہ جاناں کہو اور حقیقت کہی کہ یاد نہیں
Mirza Ghalib
123 likes
پوچھوں آ گئی ہے ادھر کارڈ چھپ گئے اب کب کہے گی تجھ کو حقیقت لڑکا نہیں پسند
Kushal Dauneria
79 likes
آپ کیوں روئیںگے مری خاطر فرض یہ سارے ا سے غلام کے ہیں دن ہے وہ ہے وہ سو بار یاد کرتا ہوں پاسورڈ سارے تری نام کے ہیں
Aadil Rasheed
78 likes
جھیلا ہے ہے وہ ہے وہ نے تین سو پینسٹھ دکھوں کا سال چاہو تو پچھلے بارہ مہینوں سے پوچھ لو
Rehman Faris
81 likes
مہینوں پھول بھجوانے پڑے تھے وہ پہلی بار جب روٹھا تھا مجھ سے
Varun Anand
77 likes
More from Mirza Ghalib
رہیے اب ایسی جگہ چل کر ج ہاں کوئی لگ ہوں ہم سخن کوئی لگ ہوں اور ہم زبان کوئی لگ ہوں
Mirza Ghalib
12 likes
بیداد عشق سے نہیں ڈرتا م گر سرسری ج سے دل پہ ناز تھا مجھے حقیقت دل نہیں رہا
Mirza Ghalib
7 likes
دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو لگ دے جو بوسہ تو منا سے کہی جواب تو دے
Mirza Ghalib
22 likes
سب ک ہاں کچھ لالا و گل ہے وہ ہے وہ نمائیں ہوں گئیں خاک ہے وہ ہے وہ کیا صورتیں ہوںگی کہ پن ہاں ہوں گئیں
Mirza Ghalib
0 likes
تا قیامت شب فرقت ہے وہ ہے وہ گزر جائے گی عمر سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک
Mirza Ghalib
17 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's sher.







