کاغذوں کی کشتی پر دل کے زخم ڈھوتے ہیں ہاتھ لگتی چیزوں کو ہاتھ لگتے کھوتے ہیں ایک دن اندھیرے نے آکے مجھ سے بولا یہ جو ادا سے رہتے نہیں حقیقت ادا سے ہوتے ہیں
Related Sher
کوئی دقت نہیں ہے گر تمہیں الجھا سا لگتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ملنے ہے وہ ہے وہ سب کو ایسا لگتا ہوں ضروری تو نہیں ہم ساتھ ہیں تو کوئی چکر ہوں حقیقت مری دوست ہے اور ہے وہ ہے وہ اسے ب سے اچھا لگتا ہوں
Ali Zaryoun
521 likes
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے خوش رکھنے کو تاکتے یہ خیال اچھا ہے
Mirza Ghalib
489 likes
یہ ا پیش بات کہ خاموش کھڑے رہتے ہیں پھروں بھی جو لوگ بڑے ہیں حقیقت بڑے رہتے ہیں
Rahat Indori
484 likes
ا گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے ذرا سی بوندابان گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے یہ راہ عشق ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں محبت اڑانی والوں کے ب سے کی بات تھوڑی ہے
Abrar Kashif
221 likes
شاخوں سے ٹوٹ جائیں حقیقت پتے نہیں ہیں ہم آندھی سے کوئی کہ دے کہ اوقات ہے وہ ہے وہ رہے
Rahat Indori
435 likes
More from Anmol Mishra
پھٹے مقدر پہ رکھ کے خدر ہوئی سکندر ادا سے نسلیں زمین پھاڑی نچوڑے بادل بنائے سا گر ادا سے نسلیں دستور خوابوں کی راکھ لے کر گڑھے تھے پتلے جو ٹیڑھے میڑھے ہنسی کے منتر سے جان پھونکے انہی کے اندر ادا سے نسلیں
Anmol Mishra
2 likes
جو جو جتنا پاس تھا میرے وہ وہ اتنا دور ہوا اس سے کہا اک چھوٹا قصہ اگلے ہی دن مشہور ہوا کسی سہارے کی چاہت میں جب جب ٹوٹے راتوں کو خود کے کندھے پر سر رکھنا پھروں رونا جھمکے ہوا
Anmol Mishra
3 likes
یہ ہنر مری بھی اندر آ گیا تو ہے دوستوں دل پہ لگتی بات کو ب سے مسکرا کر ٹال دوں
Anmol Mishra
6 likes
خاموشیاں غلام بناتی ہیں شور کو شب عشق کے اصول سکھاتی چکور کو دن بھر تو مری یار مری یار تھے بے حد پر شام کو گیا تو جو حقیقت لوٹا لگ بھور کو
Anmol Mishra
1 likes
دھوئیں کی چاہ ہے وہ ہے وہ پاگل خا لگ وحدت پسند پتی جلاتے ہوں سمجھ پائے لگ علموں کو تو جاناں پستی جلاتے ہوں بے حد نادان ہوں جاناں بھی تمہاری حرکتیں کیا کم اجالے کو مٹانے کے لیے بتی جلاتے ہوں
Anmol Mishra
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Anmol Mishra.
Similar Moods
More moods that pair well with Anmol Mishra's sher.







