کبھی بھی جسم کی باتیں بدن کا ذکر نا ہوگا سو اے لڑکی غزل کو جاناں کبھی ڈر کر نہیں پڑھنا ا گر ہے وہ ہے وہ سیج دل کا کہ رہا ہوں ا سے غزل ہے وہ ہے وہ تو اسے دل سیج ہی پڑھنا کبھی بستر نہیں پڑھنا
Related Sher
ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
333 likes
مری اندر سے آ جاؤ باہر گہما گہمی ہے ایک بدن ہے وہ ہے وہ دو لوگوں کو کیسے گھر لے جاؤں گا
nakul kumar
75 likes
بڑے نادان ہوں جاناں بھی ذرا سمجھا کروں باتیں گلے مل کر جو روتی ہے بچھڑ کر کتنا روئے گی
Ankita Singh
211 likes
تمہیں ہم بھی ستانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا تمہارا دل دکھانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدنام کرتے پھروں رہے ہوں اپنی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر ہم سچ بتانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا
Santosh S Singh
339 likes
رنگ و ر سے کی ہوں سے اور ب سے مسئلہ دسترسی اور ب سے یوں بنی ہیں رگیں جسم کی ایک ن سے ٹَ سے سے م سے اور ب سے
Ammar Iqbal
71 likes
More from Kush Pandey ' Saarang '
یقین کرتے ہوئے بھی ڈر رہا ہوں یقین نے حال ایسا کر دیا ہے
Kush Pandey ' Saarang '
0 likes
ا نہیں دل تخت پہ بیٹھا چکے ہیں انگوٹھی پھروں بھی حقیقت لوٹا چکے ہیں سڑک اب گاؤں تک تو آ چکی ہے م گر ا سے گاؤں سے سب جا چکے ہیں
Kush Pandey ' Saarang '
0 likes
ورہ پہ مون ہوں جاتی ہیں ان سب کی زبانیں جو ہر کویتا ملن پہ وار دیتے ہیں ی ہاں پہ
Kush Pandey ' Saarang '
1 likes
ورہ کو چھوڑ دیتی ہوں فقط شنگار لکھتی ہوں ورہ کے گیت لکھتا ہے وہ ہے وہ ج ہاں جاناں پیار لکھتی ہوں
Kush Pandey ' Saarang '
1 likes
ذرا چہرہ تو ہم کو جاناں دکھا دو لگ جانے کب یہ دنیا چھوڑ جاؤں
Kush Pandey ' Saarang '
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kush Pandey ' Saarang '.
Similar Moods
More moods that pair well with Kush Pandey ' Saarang ''s sher.







