sherKuch Alfaaz

کئی قصے ادھورے رہ گئے اپنی کہانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ چلے آئی ہیں بچپن کو گنوا کے نوجوانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوائیں جو بغاوت پر اتر آئی ہیں آخر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی طوفان کی دستک ہے مری زندگانی ہے وہ ہے وہ

nakul kumar45 Likes

More from nakul kumar

کچھ نہیں ہے زندگی برباد ہے اب تو مر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ محبت کو منانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے بھی گر ہوں سکے مجھ کو رہا کر دے رہ نہیں سکتا ہے وہ ہے وہ اب ا سے قید خانے ہے وہ ہے وہ

nakul kumar

1 likes

تمہیں جب سمے مل جائے چلے آنا کبھی ملنے ابھر آئی ہیں کچھ باتیں وہی سب بات کرنی ہیں تری آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہ کر پھروں نئے کچھ دن لکیریں ہیں تری زلفوں تلے حقیقت کچھ پرانی رات کرنی ہیں

nakul kumar

1 likes

کہو کیا ہوں گیا تو جو مل لگ پائے یار سے اپنے نہارو چاند کو پھروں یار کے گھر دوار کو دیکھو

nakul kumar

1 likes

مری ہر لفظ ہے وہ ہے وہ شامل کہی کوئی کہانی ہے کہانی بھی وہی ہے جو کئی صدیوں پرانی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آیا ہوں ستاروں کے پرے سے داستان لے کر یہی اک داستان مجھ کو ستاروں کو کیجیے گا ہے

nakul kumar

5 likes

کام سے نکلے تو پھروں یہ لوگ سب گھر جائیں گے گھر نہ جا پائے تو پھروں یہ راہ ہے وہ ہے وہ مر جائیں گے کچھ بھی کر جانے کو آتور عشق ہے وہ ہے وہ جو ہیں اگر کچھ نہ کر پائے تو پھروں یہ کچھ نہ کچھ کر جائیں گے

nakul kumar

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on nakul kumar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with nakul kumar's sher.