خفا ہیں پھر بھی آ کر چھیڑ جاتے ہیں تصور میں ہمارے حال پر کچھ مہربانی اب بھی ہوتی ہے
Related Sher
شاخوں سے ٹوٹ جائیں حقیقت پتے نہیں ہیں ہم آندھی سے کوئی کہ دے کہ اوقات ہے وہ ہے وہ رہے
Rahat Indori
435 likes
دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں
Varun Anand
300 likes
کسی گلی ہے وہ ہے وہ کرائے پہ گھر لیا ا سے نے پھروں ا سے گلی ہے وہ ہے وہ گھروں کے کرائے بڑھنے لگے
Umair Najmi
162 likes
مر چکا ہے دل م گر زندہ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زہر جیسی کچھ دوائیں چاہیے پوچھتے ہیں آپ آپ اچھے تو ہیں جی ہے وہ ہے وہ اچھا ہوں دعائیں چاہیے
Jaun Elia
302 likes
تمہیں حسن پر دسترسی ہے محبت وہبت بڑا جانتے ہوں تو پھروں یہ بتاؤ کہ جاناں ا سے کی آنکھوں کے بارے ہے وہ ہے وہ کیا جانتے ہوں یہ جغرافیہ فلسفہ سائیکالوجی سائن سے ریاضی وغیرہ یہ سب جاننا بھی اہم ہے م گر ا سے کے گھر کا پتا جانتے ہوں
Tehzeeb Hafi
1279 likes
More from Akhtar Shirani
کچھ ا سے طرح سے یاد آتے رہے ہوں کہ اب بھول جانے کو جی چاہتا ہے
Akhtar Shirani
16 likes
انہی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلےگا اندھیری رات کے پردے ہے وہ ہے وہ دن کی روشنی بھی ہے
Akhtar Shirani
21 likes
مٹ چلے مری امیدوں کی طرح حرف م گر آج تک تری خطوں سے تری خوشبو لگ گئی
Akhtar Shirani
24 likes
مجھے ہے عارض گل فام لیکن تمہیں خود اعتبار آئی لگ آئی
Akhtar Shirani
21 likes
مانا کہ سب کے سامنے ملنے سے ہے حجاب لیکن حقیقت خواب ہے وہ ہے وہ بھی لگ آئیں تو کیا کریں
Akhtar Shirani
21 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Akhtar Shirani.
Similar Moods
More moods that pair well with Akhtar Shirani's sher.







