کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یا رب قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
Related Sher
سبھی کا خون ہے شامل ی ہاں کی مٹی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے
Rahat Indori
144 likes
علاج اپنا کراتے پھروں رہے ہوں جانے ک سے ک سے سے محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے
Farhat Ehsaas
124 likes
ملے کسی سے گرے ج سے بھی جال پر مری دوست ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو چھوڑ چکا ا سے کے حال پر مری دوست ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ سبکا مقدر تو مری جیسا نہیں کسی کے ساتھ تو ہوگا حقیقت کال پر مری دوست
Ali Zaryoun
157 likes
رک گیا تو ہے حقیقت یا چل رہا ہے ہم کو سب کچھ پتا چل رہا ہے ا سے نے شا گرا بھی کی ہے کسی سے اور گاؤں ہے وہ ہے وہ کیا چل رہا ہے
Tehzeeb Hafi
155 likes
پتیلی پلکیں دیکھ کر تو کیوں رکا ہے خوش ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مری آنکھ ہے وہ ہے وہ کچھ آ گیا تو ہے خوش ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت کسی کے ساتھ خوش تھا کتنے دکھ کی بات تھی اب مری پہلو ہے وہ ہے وہ آ کر رو رہا ہے خوش ہوں ہے وہ ہے وہ
Zubair Ali Tabish
105 likes
More from Mirza Ghalib
سب ک ہاں کچھ لالا و گل ہے وہ ہے وہ نمائیں ہوں گئیں خاک ہے وہ ہے وہ کیا صورتیں ہوںگی کہ پن ہاں ہوں گئیں
Mirza Ghalib
0 likes
بیداد عشق سے نہیں ڈرتا م گر سرسری ج سے دل پہ ناز تھا مجھے حقیقت دل نہیں رہا
Mirza Ghalib
7 likes
رہیے اب ایسی جگہ چل کر ج ہاں کوئی لگ ہوں ہم سخن کوئی لگ ہوں اور ہم زبان کوئی لگ ہوں
Mirza Ghalib
12 likes
آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال ہے وہ ہے وہ ہے وہ تاکتے سریر خامہ نوا سروش ہے
Mirza Ghalib
24 likes
تیشے بغیر مر لگ سکا کوہکن سرسری سرگشتہ خمار رسوم و قیود تھا
Mirza Ghalib
13 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's sher.







