کسے خبر تھی درختوں کا یہ کٹاو کبھی ہمارے حلقہ احباب تک بھی آئےگا
Related Sher
ہوش والوں کو خبر کیا بے خو گرا کیا چیز ہے عشق کیجے پھروں سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
Nida Fazli
145 likes
منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا ج ہاں بنیاد ہوں اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی
Munawwar Rana
57 likes
ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
333 likes
حقیقت آئی گھر ہے وہ ہے وہ ہمارے خدا کی قدرت ہے کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
Mirza Ghalib
68 likes
سخن کا خون تمنا کم ہوتا نہیں ہے وگر لگ کیا ستم ہوتا نہیں ہے بھلے جاناں کاٹ دو بازو ہمارے کا سر ہوتا نہیں ہے
Baghi Vikas
65 likes
More from Ahmad Farhad
تجھ سا ہے میری جان مگر تو تو نہیں ہے یہ پھول تیری کتنی کمی پوری کرےگا
Ahmad Farhad
0 likes
میں ٹھیک سوچتا ہوں کوئی حد میرے لیے میں صاف دیکھتا ہوں مجھے مار دیجیے
Ahmad Farhad
0 likes
جو زخم بانٹتے ہیں انہیں زیست پہ ہے حق میں پھول بانٹتا ہوں مجھے مار دیجیے
Ahmad Farhad
0 likes
بچھڑنے والے میں سو عیب تھے مگر فرہاد وہ بد دماغ میرا مسئلہ سمجھتا تھا
Ahmad Farhad
0 likes
یہ فوک سے پڑھائی فیوچر لگن اور کیریئر کی باتیں میاں مسئلہ یہ ہے جاناں نے ابھی اس کا کو دیکھا نہیں ہے
Ahmad Farhad
59 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Farhad.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Farhad's sher.







