کوئی سمندر کوئی ن گرا ہوتی کوئی دریا ہوتا ہم جتنے پیاسے تھے ہمارا ایک گلا سے سے کیا ہوتا
Related Sher
شاخوں سے ٹوٹ جائیں حقیقت پتے نہیں ہیں ہم آندھی سے کوئی کہ دے کہ اوقات ہے وہ ہے وہ رہے
Rahat Indori
435 likes
کوئی دقت نہیں ہے گر تمہیں الجھا سا لگتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ملنے ہے وہ ہے وہ سب کو ایسا لگتا ہوں ضروری تو نہیں ہم ساتھ ہیں تو کوئی چکر ہوں حقیقت مری دوست ہے اور ہے وہ ہے وہ اسے ب سے اچھا لگتا ہوں
Ali Zaryoun
521 likes
ا گر ہے عشق سچا تو نگا ہوں سے بیاں ہوگا زبان سے بولنا بھی کیا کوئی اظہار ہوتا ہے
Bhaskar Shukla
130 likes
لگ جانے کیوں گلے سے لگنے کی ہمت نہیں ہوتی لگ جانے کیوں پتا کے سامنے بیٹے نہیں کھلتے
Kushal Dauneria
94 likes
ہزاروں سال نرگ سے اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن ہے وہ ہے وہ دیدہ ور پیدا
Allama Iqbal
207 likes
More from Tehzeeb Hafi
اک تیرا ہجر دائمی ہے مجھے ور لگ ہر چیز عارضی ہے مجھے
Tehzeeb Hafi
45 likes
صحرا سے ہوں کے باغ ہے وہ ہے وہ آیا ہوں سیر کو ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پھول ہیں مری پاؤں ہے وہ ہے وہ ریت ہے
Tehzeeb Hafi
41 likes
تمام ناخدا ساحل سے دور ہوں جائیں سمندروں سے اکیلے ہے وہ ہے وہ بات کرنی ہے
Tehzeeb Hafi
51 likes
بے لحاظ یہ پہلو نکال لیتا ہے کہ پتھروں سے بھی خوشبو نکال لیتا ہے ہے بے لحاظ کچھ ایسا کی آنکھ لگتے ہی حقیقت سر کے نیچے سے بازو نکال لیتا ہے
Tehzeeb Hafi
77 likes
حقیقت ج سے کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ پچی سے سال گزرے ہیں حقیقت پیڑ مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا
Tehzeeb Hafi
74 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.
Similar Moods
More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's sher.







