لوگ دشمن ہوئے اسی کے شکیبؔ کام جس مہربان سے نکلا
Related Sher
بچھڑ کر ا سے کا دل لگ بھی گیا تو تو کیا لگے گا حقیقت تھک جائےگا اور مری گلے سے آ لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مشکل ہے وہ ہے وہ تمہارے کام آؤں یا نا آؤں مجھے آواز دے لینا تمہیں اچھا لگے گا
Tehzeeb Hafi
751 likes
ہم کو نیچے اتار لیں گے لوگ عشق لٹکا رہے گا پنکھے سے
Zia Mazkoor
224 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے
Jaun Elia
206 likes
ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں محبت کی اسی مٹی کو ہندوستان کہتے ہیں
Rahat Indori
212 likes
جدا ہوئے ہیں بے حد لوگ ایک جاناں بھی صحیح اب اتنی بات پہ کیا زندگی حرام کریں
Nasir Kazmi
75 likes
More from Shakeb Jalali
یہ ایک ابر کا ٹکڑا ک ہاں ک ہاں برسے تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
Shakeb Jalali
15 likes
यही दीवार-ए-जुदाई है ज़माने वालो हर घड़ी कोई मुक़ाबिल में खड़ा रहता है
Shakeb Jalali
7 likes
مجھے گرنا ہے تو ہے وہ ہے وہ اپنے ہی قدموں ہے وہ ہے وہ گروں ج سے طرح سایہ دیوار پہ دیوار گرے
Shakeb Jalali
15 likes
دل کے ویرانے ہے وہ ہے وہ اک پھول کھلا رہتا ہے کوئی موسم ہوں میرا زخم ہرا رہتا ہے
Shakeb Jalali
9 likes
سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لبا سے ہے وہ ہے وہ
Shakeb Jalali
10 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shakeb Jalali.
Similar Moods
More moods that pair well with Shakeb Jalali's sher.







