लोग जो पत्थर उठा लेते हैं हर इक बात पर कोई उन के सामने फिर आइना रखवाए क्यूँँ
Related Sher
ہم حقیقت ہیں جو خدا کو بھول گئے جاناں مری جان ک سے گمان ہے وہ ہے وہ ہوں
Jaun Elia
563 likes
ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
136 likes
بات کروں روٹھے یاروں سے سناٹوں سے ڈر جاتے ہیں پیار اکیلا جی لیتا ہے دوست اکیلے مر جاتے ہیں
Kumar Vishwas
141 likes
یہ شہر اجنبی ہے وہ ہے وہ اب کسے جا کر بتائیں ہم ک ہاں کے رہنے والے ہیں ک ہاں کی یاد آتی ہے
Ashu Mishra
117 likes
کون سی بات ہے جاناں ہے وہ ہے وہ ایسی اتنے اچھے کیوں لگتے ہوں
Mohsin Naqvi
118 likes
More from kapil verma
ورق پر آج کے برسوں ہے وہ ہے وہ ٹھہرا ہے فلک آؤ لکھیں زندان ہے وہ ہے وہ بھی نجم ہم عنوان جو بھی ہوں
kapil verma
0 likes
سب کچھ غصہ اور نیا سا لگا تھا تب ہر اجازت ہے اب ہماری برق کی آ سے ہے وہ ہے وہ
kapil verma
0 likes
کیوں ہے تیغ لفظوں کی بات بات ہے وہ ہے وہ شامل خموشی سے مجھ کو بھی بے سپر کرے کوئی
kapil verma
0 likes
नुमाइश है यहाँ लगती जमाल-ए-जिस्म की हर-सू बिखेरा जिस क़दर इस्मत को उतना दाम लगता है
kapil verma
0 likes
حیات آئی ک ہاں سے انداز وصل ذروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ظہور قید کیے بن نہیں روائی دے
kapil verma
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on kapil verma.
Similar Moods
More moods that pair well with kapil verma's sher.







