ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے
Related Sher
تمہیں حسن پر دسترسی ہے محبت وہبت بڑا جانتے ہوں تو پھروں یہ بتاؤ کہ جاناں ا سے کی آنکھوں کے بارے ہے وہ ہے وہ کیا جانتے ہوں یہ جغرافیہ فلسفہ سائیکالوجی سائن سے ریاضی وغیرہ یہ سب جاننا بھی اہم ہے م گر ا سے کے گھر کا پتا جانتے ہوں
Tehzeeb Hafi
1279 likes
ا گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے ذرا سی بوندابان گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے یہ راہ عشق ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں محبت اڑانی والوں کے ب سے کی بات تھوڑی ہے
Abrar Kashif
221 likes
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر ہے وہ ہے وہ رہا
Ahmad Faraz
594 likes
ہم حقیقت ہیں جو خدا کو بھول گئے جاناں مری جان ک سے گمان ہے وہ ہے وہ ہوں
Jaun Elia
563 likes
بچھڑ کر ا سے کا دل لگ بھی گیا تو تو کیا لگے گا حقیقت تھک جائےگا اور مری گلے سے آ لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مشکل ہے وہ ہے وہ تمہارے کام آؤں یا نا آؤں مجھے آواز دے لینا تمہیں اچھا لگے گا
Tehzeeb Hafi
751 likes
More from Kaif Bhopali
یہ تلکداریاں یہ چلتی نہیں مکاریاں ہمارے عہد ہے وہ ہے وہ خیرو نہیں مکاریاں قبیلے والوں کے دل جوڑیے مری سردار سروں کو کاٹ کے سرداریاں نہیں مکاریاں
Kaif Bhopali
22 likes
تھوڑا سا عک سے چاند کے پیکر ہے وہ ہے وہ ڈال دے تو آ کے جان رات کے منظر ہے وہ ہے وہ ڈال دے
Kaif Bhopali
26 likes
ج سے دن مری جبیں کسی دہلیز پر جھکے ا سے دن خدا شگاف مری سر ہے وہ ہے وہ ڈال دے
Kaif Bhopali
29 likes
ماں کی آغوش ہے وہ ہے وہ کل موت کی آغوش ہے وہ ہے وہ آج ہم کو دنیا ہے وہ ہے وہ یہ دو سمے سہانے سے ملے
Kaif Bhopali
28 likes
ایک کمی تھی تاج محل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تری تصویر لگا دی
Kaif Bhopali
35 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kaif Bhopali.
Similar Moods
More moods that pair well with Kaif Bhopali's sher.







