میرؔ بندوں سے کام کب نکلا مانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ
Related Sher
ہم ہیں نا یہ جو مجھ سے کہتے ہیں خود کسی اور کے بھروسے ہیں زندگی کے لیے بتاؤ کچھ خود کشی کے تو سو طریقے ہیں
Vikram Gaur Vairagi
94 likes
عشق نے تاکتے سنگ و خشت کر دیا ور لگ ہم بھی آدمی تھے کام کے
Mirza Ghalib
85 likes
دولت شہرت بیوی بچے اچھا گھر اور اچھے دوست کچھ تو ہے جو ان کے بعد بھی حاصل کرنا باقی ہے کبھی کبھی تو دل کرتا ہے چلتی ریل سے کود پڑوں پھروں کہتا ہوں پاگل اب تو تھوڑا رستہ باقی ہے
Zia Mazkoor
91 likes
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوںگی یوں کوئی بےوفا نہیں ہوتا
Bashir Badr
85 likes
بنسری سب سر تیاغے ہے ایک ہی سر ہے وہ ہے وہ باجے ہے حال لگ پوچھو موہن کا سب کچھ رادھے رادھے ہے
Zubair Ali Tabish
325 likes
More from Meer Taqi Meer
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں دل ہوا ہے چراغ مفل سے کا
Meer Taqi Meer
0 likes
لگ رکھو کان نظم شاعر ان حال پر اتنے چلو ٹک میر کو سننے کہ اندھیرا سے پروتا ہے
Meer Taqi Meer
9 likes
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
Meer Taqi Meer
11 likes
سرہانے میر کے کوئی لگ بولو ابھی ٹک روتے روتے سو گیا تو ہے
Meer Taqi Meer
19 likes
بار بار ا سے کے درل پہ جاتا ہوں حالت اب اضطراب کی سی ہے
Meer Taqi Meer
22 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Meer Taqi Meer.
Similar Moods
More moods that pair well with Meer Taqi Meer's sher.







