مری زمین پہ پھیلا ہے آسمان عدم ازل سے میرے زمانے پہ اک زمانہ ہے
Related Sher
مری اندر سے آ جاؤ باہر گہما گہمی ہے ایک بدن ہے وہ ہے وہ دو لوگوں کو کیسے گھر لے جاؤں گا
nakul kumar
75 likes
ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
136 likes
مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
126 likes
کوئی شہر تھا ج سے کی ایک گلی مری ہر آہٹ پہچانتی تھی مری نام کا اک دروازہ تھا اک کھڑکی مجھ کو جانتی تھی
Ali Zaryoun
321 likes
ہوا ہی کیا جو حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ملا نہیں بدن ہی صرف ایک راستہ نہیں یہ پہلا عشق ہے تمہارا سوچ لو مری لیے یہ راستہ نیا نہیں
Azhar Iqbal
298 likes
More from Shahbaz Rizvi
اپنے ہونٹوں سے کہو پھول کو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر روز جب مری لب نہیں ہوں گے تو سہولت ہوں گی
Shahbaz Rizvi
30 likes
ذرا سی آنکھ کرنی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بند بے حد مشکل نہیں مرنا ہمارا
Shahbaz Rizvi
29 likes
خواب کے آ سے پا سے رہ رہ کر تھک گیا تو ہوں ادا سے رہ رہ کر
Shahbaz Rizvi
40 likes
اک روز اک ن گرا کے کنارے ملیںگے ہم اک دوسرے سے اپنا پتا پوچھتے ہوئے
Shahbaz Rizvi
38 likes
کتنی مشکل کے بعد ٹوٹا ہے ایک رشتہ کبھی جو تھا ہی نہیں
Shahbaz Rizvi
45 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shahbaz Rizvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Shahbaz Rizvi's sher.







