مجھے بے پناہ سا ہے لگ رہا جو گلوں پہ چھایا شباب ہے جو لگ تری بالوں ہے وہ ہے وہ لگ سکا حقیقت گلاب کیا ہی گلاب ہے
Related Sher
جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
368 likes
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
Allama Iqbal
354 likes
یہ دکھ ا پیش ہے کہ ا سے سے ہے وہ ہے وہ دور ہوں رہا ہوں یہ غم جدا ہے حقیقت خود مجھے دور کر رہا ہے تری چیزیں پر لکھ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ تازہ غزلیں یہ تیرا غم ہے جو مجھ کو مشہور کر رہا ہے
Tehzeeb Hafi
394 likes
میرا ارمان مری خواہش نہیں ہے یہ دنیا مری فرمائش نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری خواب واپ سے کر رہا ہوں مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ گنجائش نہیں ہے
Abrar Kashif
89 likes
تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی
Tehzeeb Hafi
331 likes
More from SHIV SAFAR
یہ دنیا جو اپنوں کو بھی یاد نہیں اب کرتی ہے مجھ کو یاد رکھےگی ا سے امید پہ ہی دم توڑا ہوں
SHIV SAFAR
0 likes
ہے وہ ہے وہ تو ان کو جانے کب کا بھول گیا تو حقیقت جو جن کے گالوں پر تل کالا تھا یاروں لیکن بھول لگ پایا آج تلک اس کا کا کو ج سے کے سینے ہے وہ ہے وہ دل کالا تھا
SHIV SAFAR
0 likes
حقیقت اب میرا نہیں یہ ماننا آساں یوں ہوں جائے برابر ایک سے کے کچھ مان لینا جتنا آساں تھا
SHIV SAFAR
0 likes
ہے وہ ہے وہ سرکار کی ناکامی پر انگلی نہیں اٹھاوں گا آخر اک سرکاری نوکر کے کارن ہے وہ ہے وہ شاعر ہوں
SHIV SAFAR
0 likes
سانسوں کی ریلگاڑی ٹھہرنا ہے چاہتی زنجیر مری زندگی کی کھینچ دے کوئی
SHIV SAFAR
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on SHIV SAFAR.
Similar Moods
More moods that pair well with SHIV SAFAR's sher.







