نظروں سے ناپتا ہے سمندر کی وسعتیں ساحل پہ اک شخص اکیلا کھڑا ہوا
Related Sher
مجھ سے مت پوچھو کے ا سے بے وجہ ہے وہ ہے وہ کیا اچھا ہے اچھے اچھوں سے مجھے میرا برا اچھا ہے ک سے طرح مجھ سے محبت ہے وہ ہے وہ کوئی جیت گیا تو یہ لگ کہ دینا کے بستر ہے وہ ہے وہ بڑا اچھا ہے
Tehzeeb Hafi
566 likes
اداسی چنو کہ ا سے کے بدن کا حصہ ہے ادھورا لگتا ہے حقیقت بے وجہ ا گر ادا سے لگ ہوں
Vikram Sharma
55 likes
ا سے طرح کرتا ہے ہر بے وجہ سفر اپنا ختم خود کو تصویر ہے وہ ہے وہ رکھتا ہے چلا جاتا ہے
Sandeep kumar
53 likes
سوچوں تو ساری عمر محبت ہے وہ ہے وہ کٹ گئی دیکھوں تو ایک بے وجہ بھی میرا نہیں ہوا
Jaun Elia
545 likes
ان کی صحبت ہے وہ ہے وہ گئے سنبھلے دوبارہ ٹوٹے ہم کسی بے وجہ کو دے دے کے سہارا ٹوٹے یہ غضب رسم ہے بلکل لگ سمجھ آئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیار بھی ہم ہی کریں دل بھی ہمارا ٹوٹے
Vikram Gaur Vairagi
94 likes
More from Mohammad Alvi
آگ اپنے ہی لگا سکتے ہیں غیر تو صرف ہوا دیتے ہیں
Mohammad Alvi
11 likes
نیا سال دیوار پر ٹانگ دے پرانی بر سے کا کیلنڈر گرا
Mohammad Alvi
20 likes
ا سے سے ملے زما لگ ہوا لیکن آج بھی دل سے دعا نکلتی ہے خوش ہوں ج ہاں بھی ہوں
Mohammad Alvi
6 likes
صدیوں سے کنارے پہ کھڑا سوکھ رہا ہے ا سے شہر کو دریا ہے وہ ہے وہ گرا دینا چاہیے
Mohammad Alvi
24 likes
علوی یہ معجزہ ہے دسمبر کی دھوپ کا سارے مکان شہر کے دھوئے ہوئے سے ہیں
Mohammad Alvi
34 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mohammad Alvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Mohammad Alvi's sher.







