نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
Related Sher
ا گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے ذرا سی بوندابان گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے یہ راہ عشق ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں محبت اڑانی والوں کے ب سے کی بات تھوڑی ہے
Abrar Kashif
221 likes
پوچھتے ہیں حقیقت کہ تاکتے کون ہے کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
Mirza Ghalib
208 likes
ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں محبت کی اسی مٹی کو ہندوستان کہتے ہیں
Rahat Indori
212 likes
تری لگائے ہوئے زخم کیوں نہیں بھرتے مری لگائے ہوئے پیڑ سوکھ جاتے ہیں
Tehzeeb Hafi
200 likes
منزلیں کیا ہیں راستہ کیا ہے حوصلہ ہوں تو فاصلہ کیا ہے
Aalok Shrivastav
152 likes
More from Mirza Ghalib
دل ہی تو ہے لگ پل دو پل درد سے بھر لگ آئی کیوں روئیںگے ہم ہزار بار کوئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ستائے کیوں
Mirza Ghalib
24 likes
غم اگرچہ پ ہے بچیں ک ہاں غم عشق کہ دل ہے غم عشق گر لگ ہوتا غرق دریا ہوتا
Mirza Ghalib
14 likes
بے خو گرا بے سبب نہیں تاکتے کچھ تو ہے ج سے کی پردہ داری ہے
Mirza Ghalib
24 likes
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
Mirza Ghalib
0 likes
بیداد عشق سے نہیں ڈرتا م گر سرسری ج سے دل پہ ناز تھا مجھے حقیقت دل نہیں رہا
Mirza Ghalib
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's sher.







