پہاڑ جیسی عظمتوں کا داخلہ تھا شہر میں کہ لوگ آگہی کا اشتہار لے کے چل دیے
Related Sher
کوئی دقت نہیں ہے گر تمہیں الجھا سا لگتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ملنے ہے وہ ہے وہ سب کو ایسا لگتا ہوں ضروری تو نہیں ہم ساتھ ہیں تو کوئی چکر ہوں حقیقت مری دوست ہے اور ہے وہ ہے وہ اسے ب سے اچھا لگتا ہوں
Ali Zaryoun
521 likes
ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
333 likes
شاخوں سے ٹوٹ جائیں حقیقت پتے نہیں ہیں ہم آندھی سے کوئی کہ دے کہ اوقات ہے وہ ہے وہ رہے
Rahat Indori
435 likes
سوچوں تو ساری عمر محبت ہے وہ ہے وہ کٹ گئی دیکھوں تو ایک بے وجہ بھی میرا نہیں ہوا
Jaun Elia
545 likes
تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے
Faiz Ahmad Faiz
401 likes
More from Yaqoob Yawar
زندگی کا ہر ورق با شوق پڑھیے یہ کتاب اک روز لوٹانی بھی تو ہے
0 likes
زندگی بھر یوں مری دل کو دکھایا تھا بے حد قبر پر آیا ہے حقیقت مجھ سے سندلی کے لیے
0 likes
ज़िंदगी भर मैं बोलूँगा तुझ को इश्क़ का यूँँ दग़ाबाज़ है तू
0 likes
آب و زیست ہے وہ ہے وہ مری ا سے نے اندھیرا کیا اور اس کا کو سبھی روشنی کہتے تھے
0 likes
جاناں کیا جانو یار ادیبوں کی ہستی ہم مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Yaqoob Yawar.
Similar Moods
More moods that pair well with Yaqoob Yawar's sher.







